بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الاول 1444ھ 02 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بیوی سے جنسی خواہش پوری نہ ہونے کی صورت میں مشت زنی کرنا


سوال

شادی اس نیت اور شوق سے کی کہ بیوی  سے جماع خواہش پوری ہو گی لیکن  اب میری بیوی سے  سے شہوت  اور خواهش پوری نہیں ہورہی ہے، بیوی خواہش پوری کرنے میں  کرنے میں ٹال مٹول کرتی ہو اور مرد ہر وقت جماع کا خواہش مند بھی ہوتو  مرد اس صورت میں مشت زنی کرے تو یہ گناہ بیوی پر آتا ہے یا نہیں؟

جواب

شریعت نے جنسی خواہش کی تسکین کے لیے  عفت والا راستہ  نکاح کومتعین کیاہے ، اس حلال راستہ کے علاوہ کسی بھی طریقہ سے اپنی خواہش پوری کرنا حدودسے تجاوز کرنے کی بنا پر ناجائز اور حرام ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

{وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ} ( سورۃ المومنون  ، آیت ، ۵ تا ۸)

ترجمہ:  اور جو اپنی شہوت کی جگہ کو تھامتے ہیں، مگر اپنی عورتوں پر یا اپنے ہاتھ کے مال باندیوں پر، سو ان پر نہیں کچھ الزام۔ پھر جو کوئی ڈھونڈے اس کے سوا سو وہی ہیں حد سے بڑھنے والے۔ 

(ترجمہ از شیخ الہند)

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی نور اللہ مرقدہ، اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’ {فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰئکَ  هُمُ الْعٰدُوْنَ} ، یعنی منکوحہ بیوی یا شرعی قاعدہ سے حاصل شدہ لونڈی کے ساتھ شرعی قاعدے کے مطابق قضاءِ شہوت کے علاوہ اور کوئی بھی صورت شہوت پورا کرنے کی حلال نہیں، اس میں زنا بھی داخل ہے اور جو عورت شرعاً اس پر حرام ہے اس سے نکاح بھی حکمِ زنا ہے، اور اپنی بیوی یا لونڈی سے حیض و نفاس کی حالت میں یا غیر فطری طور پر جماع کرنا بھی اس میں داخل ہے۔ یعنی کسی مرد یا لڑکے سے یا کسی جانور سے شہوت پوری کرنا بھی۔ اور جمہور کے نزدیک استمنا بالید یعنی اپنے ہاتھ سے منی خارج کرلینا بھی اس میں داخل ہے‘‘۔

(از تفسیر بیان القرآن۔ قرطبی۔ بحر محیط وغیرہ) (معارف القرآن)

نیز کئی احادیث میں اس فعلِ بد  پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں، ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :سات لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ تعالی ٰ قیامت کے دن نہ گفتگو فرمائیں گے اور نہ ان کی طرف نظرِ کرم فرمائیں گے ۔ اُن میں سے ایک وہ شخص ہے جو اپنے ہاتھ سے نکاح کرتا ہے (یعنی مشت زنی کرتا ہے )۔

’’عن أنس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "سبعة لاينظر الله عز وجل إليهم يوم القيامة، ولايزكيهم، ولايجمعهم مع العالمين، يدخلهم النار أول الداخلين إلا أن يتوبوا، إلا أن يتوبوا، إلا أن يتوبوا، فمن تاب تاب الله عليه: الناكح يده، والفاعل والمفعول به، والمدمن بالخمر، والضارب أبويه حتى يستغيثا، والمؤذي جيرانه حتى يلعنوه، والناكح حليلة جاره". " تفرد به هكذا مسلمة بن جعفر هذا ". قال البخاري في التاريخ".(شعب الإيمان 7/ 329)

نیز دوسری طرف  شریعت کا حکم یہ ہے کہ   شوہر کی جنسی فطری  ضرورت اور خواہش کی تکمیل بیوی پر لازم ہے، شرعی عذر کے  بغیر بیوی کے لیے  شوہر کو  تسکینِ شہوت سے روکنا جائز نہیں ہے، احادیث میں ایسی عورت کے  لیے  سخت وعیدات آئی ہیں، اور شوہر کو منع کرنے کی وجہ سے وہ عورت گناہ گار ہوگی۔

لیکن شرعی عذر کی صورت میں اگر بیوی شوہر کو منع کرے گی تو گناہ گار نہیں ہوگی،  جیسے  ماہواری کے ایام، بیماری، یا شوہر کا حدِ اعتدال سے زیادہ ہم بستر ہونا جس کی بیوی میں طاقت نہ ہو یا شوہر کی جانب سے تسکین شہوت کے لیےغیر فطری راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کرنا وغیرہ۔

بہر حال شوہر اور بیوی دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کا مکمل خیال رکھنا چاہیے،  نکاح کے مقدس رشتے کو پیار ومحبت سے چلانا چاہیے، ایک دوسرے پر جبر اور زبردستی کے بجائے حکمت اور بصیرت سے اپنی ضرورت کا تقاضا کرنا چاہیے، کبھی اگر عورت کو کوئی عذر ہو تو وہ شوہر کو آگاہ کردے اور شوہر اس کی رعایت رکھے اور اگر عذر نہ ہو تو بیوی شوہر کی خواہش کا احترام کرے۔

اور  اگر  بیوی میں شوہر کی جسمانی خواہش پوری کرنے کی ہمت نہیں ہے، اور شوہر ایک سے زائد بیویوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ مالی جسمانی حقوق ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہو تو اس کے لیے ایک اور نکاح کی اجازت ہوگی۔

اور اگر یہ بھی استطاعت نہ ہو تو  کثرت سے روزے رکھنے چاہییں، کیوں کہ روزہ رکھنے سے شہوت مغلوب ہوتی ہے،ایسی غذا ئیں استعمال نہ کرے جس سے شہوت میں اضافہ ہوتا ہو، نیز ہر وقت باوضو رہنے کا اہتمام کریں، تنہائی میں بالکل نہ رہیں، بیت الخلا/ غسل خانے میں داخل ہوتے وقت کی دعا پڑھنے کا اہتمام کریں اور مشت زنی سے متعلق وعیدات کو ذہن میں رکھنا اس قبیح گناہ سے بچنے میں معین ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203200841

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں