بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 محرم 1446ھ 23 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو مجھ پر حرام ہے کہ میں تمہارے قریب آؤں کہنے کا حکم


سوال

اگر کوئی اپنی زوجہ کو یہ کہے کہ : ”مجھ پر حرام ہے کہ میں تمہارے قریب آو ں“   تو کیا اس سے  نکاح میں کوئی فرق آئے گا ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے کہ :  ”مجھ پر حرام ہے کہ میں تمہارے قریب آو ں“ تو   شرعاً یہ  '' اِیلاء'' ہے اور  ''ایلاء''  کا حکم یہ ہے کہ اگر مذکورہ شخص  چار مہینے  تک اپنی بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم نہیں کرے گا تو  چار مہینے  مکمل ہوتے ہی اس  کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی، اور  نکاح ختم ہوجائے گا، اس کے بعد دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے نیا مہر مقرر کر کے گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہوگا۔

اور اگر مذکورہ شخص نے  چار مہینہ کے اندر   اپنی بیوی سے ازدواجی تعلق قائم کرلیا تو پھر طلاق واقع نہیں ہوگی، البتہ قسم ٹوٹ جائے گی، جس  کا کفارہ ادا کرنا لازم ہوگا، قسم کا کفارہ یہ ہے کہ :

دس مسکینوں کو صبح وشام  دو وقت کھانا کھلایا جائے، یا دس مسکینوں کو صدقہ فطر کی مقدار دے دی جائے ، یا ایک ہی غریب کو دس روز تک روزانہ ایک صدقہ فطر کی مقدار دیں، یا دس غریبوں کو پہننے کا جوڑا (لباس) دیں۔ اگر مذکورہ صورتوں میں سے کسی کی استطاعت نہیں ہے تو پھر قسم کے کفارہ کی نیت سے مسلسل تین دن روزے رکھیں۔

فتاوی شامی  میں ہے:

'' (هو) لغةً: اليمين. وشرعاً: (الحلف على ترك قربانها) مدته ولو ذمياً، (والمولي هو الذي لا يمكنه قربان امرأته إلا بشيء) مشق (يلزمه) إلا لمانع كفر... (وحكمه: وقوع طلقة بائنة إن برّ) ولم يطأ (و) لزم (الكفارة، أو الجزاء) المعلق (إن حنث) بالقربان. (و) المدة (أقلها للحرة أربعة أشهر، وللأمة شهران) ولا حد لأكثرها ... وألفاظه صريح وكناية، (ف) من الصريح (لو قال: والله) وكل ما ينعقد به اليمين (لا أقربك) لغير حائض، ذكره سعدي ؛ لعدم إضافة المنع حينئذ إلى اليمين، (أو) والله (لا أقربك) لا أجامعك لا أطؤك لا أغتسل منك من جنابة (أربعة أشهر)."

 (كتاب الطلاق، باب الايلاء، 3/ 422، ط: سعيد)

فتاوی عالمگیری میں ہے: 

"وإذا قال لامرأته: أنت علي حرام سئل عن نيته فإن قال: أردت الكذب فهو كما قال وقيل لا يصدق في القضاء لأنه يمين ظاهرة وإن قال: أردت الطلاق فهو تطليقة بائنة إلا أن يقول: نويت به الثلاث فهو ثلاث وإن قال: أردت التحريم أو لم أرد به شيئا فهو يمين يصير به موليا ومن المشايخ من يصرفه إلى الطلاق من غير نيته للعرف قال صاحب الكتاب: يأتي في الأيمان وعليه الفتوى كذا في غاية السروجي...  ولو قال: إن قربتك فأنت علي حرام فإن نوى به الطلاق فهو مول عندهم جميعا وإن نوى اليمين فهو مول للحال عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وعند أبي يوسف ومحمد - رحمهما الله تعالى - لا يكون موليا ما لم يقربها هكذا في البدائع."

(كتاب الطلاق، الباب السابع في الإيلاء، 1 / 487، ط: رشيدية)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502100712

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں