بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو بتلائے بغیر دوسری شادی کرنے کا حکم


سوال

عورت کو پوچھے بغیر دوسری شادی کر سکتے  ہیں؟

جواب

از رُوئے شرع مرد کو  بیک وقت چار شادیوں کی اجازت ہے، تاہم اس اجازت کے ساتھ اس کو بیویوں کے درمیان عدل وانصاف کا حکم بھی ہے،لہذ ا جو شخص دوسری شادی کرنا چاہ رہا ہے، اور وہ دونوں بیویوں کو اسلامی تعلیمات کے موافق یعنی عدل وانصاف کے ساتھ زیادتی کے بغیر رکھ سکتا ہے، تو بیوی کو بتائے بغیر بھی دوسری شادی کرسکتا ہے، تاہم ایسے موقع پر بیوی کو بتلاکر اعتماد میں لینا زیادہ مناسب ہوگا، نیز بیوی کو بھی  مذکورہ رشتہ بغیر تحفظات کے قبول کرنا چاہیے۔ 

الجامع لاحکام القرآن (تفسير القرطبي ) میں ہے:

{وإن خفتم ألا تقسطوا في اليتامى فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورباع فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدة أو ما ملكت أيمانكم ذلك أدنى ألا تعولوا} 

فيه أربع عشرة مسألة: الأولى- قوله تعالى:" (وإن خفتم) " شرط، وجوابه (فانكحوا) أي إن خفتم ألا تعدلوا في مهورهن وفي النفقة عليهن (فانكحوا ما طاب لكم) أي غيرهن. وروى الا يمه واللفظ لمسلم عن عروة بن الزبير عن عائشة في قول الله تعالى: (وإن خفتم ألا تقسطوا في اليتامى فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورباع) قالت: يا ابن أختي هي اليتيمة تكون في حجر وليها تشاركه في ما له فيعجبه مالها وجمالها فيريد وليها أن يتزوجها من غير أن يقسط في صداقها فيعطيها مثل ما يعطيها غيره، فنهوا أن ينكحوهن إلا أن يقسطوا لهن ويبلغوا بهن أعلى سنتهن من الصداق وأمروا أن ينكحوا ما طاب لهم من النساء سواهن. وذكر الحديث."

(سورۃ النساء، رقم الآیۃ:3، ج:5، ص:11، ط:المکتبۃ العصریۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211201406

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں