بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1441ھ- 05 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو ”اگر میں نے تمہارے اوپر دوسری شادی نہ  کی تو تم مجھ پر طلاق ہو“ کہنے کا حکم


سوال

اگر ایک شخص اپنی بیوی سے کہہ دے کہ اگر میں نے تمہارے اوپر دوسری شادی نہ  کی تو تم مجھ پر طلاق ہو  یہ بات اس نے غصے میں کہہ دی ہے تو کیا اب اسے دوسری شادی کرنا پڑے گی؟

جواب

واضح رہے کہ طلاق کو اگر کسی شرط پر معلق کیا جائے تو شرط کے پائے جانے کی صورت میں طلاق واقع ہوجاتی ہے، اور اگر اس شرط کو مطلق رکھا جائے یعنی اس میں وقت کی تعیین نہ ہو اور اس کو  کسی چیز  کے ساتھ مقید نہ کیا جائے اور نہ ہی وہ  ناممکن چیز ہو تو  اس وقت اس کا وقوع ہوتا ہے  جب  قسم کھانے والا اس شرط پر عمل کرنے سے عاجز ہوجائے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں چوں کہ سائل کا کسی عورت سے شادی کرنا موت سے پہلے پہلے ممکن ہے؛ اس لیے مذکورہ کلمات سے اس وقت تک اس کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہو گی  جب تک اس کا  شادی کرنا ممکن ہے، اور شادی کرنا موت تک ممکن ہے؛ اس لیے موت سے پہلے پہلے تک طلاق واقع نہیں ہو گی۔

اور اگر موت سے پہلے پہلے مذکورہ شخص نے  دوسری شادی نہ کی تو اس کی  موت کے وقت اس کی بیوی پر  ایک طلاق واقع ہوجائے گی۔

البحر الرائق  (4 / 338):
"كل فعل حلف أنه يفعله في المستقبل، وأطلقه، ولم يقيده بوقت لم يحنث حتى يقع الإياس عن البر مثل ليضربن زيدا أو ليعطين فلانة أو ليطلقن زوجته وتحقق اليأس عن البر يكون بفوت أحدهما فلذا قال في غاية البيان، وأصل هذا أن الحالف في اليمين المطلقة لا يحنث ما دام الحالف والمحلوف عليه قائمين لتصور البر فإذا فات أحدهما فإنه يحنث. اهـ".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 349):
"بخلاف ما إذا كان شرط الحنث أمرًا عدميًا، مثل: إن لم أكلم زيدًا أو إن لم أدخل فإنها لاتبطل بفوت المحل بل يتحقق به الحنث لليأس من شرط البر وهذا إذا لم يكن شرط البر مستحيلاً، وإلا فهو مسألة الكوز، وقد علمت ما فيها من التفصيل، وليس منها قوله لأصعدن السماء، فإن اليمين فيها منعقدة ويحنث عقبها لأن صعود السماء أمر ممكن".

المبسوط للسرخسي (9 / 8):
"ولو حلف بطلاق امرأته ليأتين البصرة فمات قبل ذلك طلقت عند الموت؛ لأن بموته فات شرط البر وهو إتيان البصرة، ولا نقول: إنه يحنث بعد موته ولكنه كما أشرف على الموت وتحقق عجزه عن إتيان البصرة حنث حتى إن كان لم يدخل بها فلا ميراث لها ولا عدة عليها، وإن كان قد دخل بها فلها الميراث وعليها العدة وتعتد إلى أبعد الأجلين بمنزلة امرأة الفار، فإن ماتت هي وهو حي لم تطلق؛ لأنه قادر على إتيان البصرة بعد موتها فلم يتحقق شرط الحنث بموتها.
ولو حلف بطلاق امرأته إن لم تأت البصرة هي فماتت فلا ميراث للزوج؛ لأنها لما أشرفت على الموت فقد تحقق عجزها عن إتيان البصرة فتطلق ثلاثا قبل موتها، ولو مات الزوج كان لها الميراث؛ لأنها تقدر على إتيان البصرة بعد موته".

النهر الفائق شرح كنز الدقائق (2/ 341):
"(إن لم أطلقك وإذا لم أطلقك) هذه المسألة مع ما بعدها من التعليق لا الإضافة فذكرها فيه أنسب (أو إذا ما لم أطلقك لا)، يعني: لاتطلق (حتى يموت أحدهما)؛ لأنه جعل الشرط عدم طلاقها ولن يتحقق ذلك إلا باليأس، وذلك في آخر جزء من أجزاء حياته فتطلق قبيل الموت، وهذا يقتضي التسوية بين موته وموتها، وهو الأصح".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200409

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں