بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی غیر موجودگی میں ساس کو تین مرتبہ ''میں نے تیری بیٹی کو طلاق دی'' کہنا


سوال

میں نے اپنی ساس کے سامنے تین بار کہا کہ ’’میں نے تیری بیٹی کو طلاق دی‘‘، بیوی نے نہیں سنا، کیا اس سے تین طلاقیں واقع ہوگئیں?

جواب

واضح رہے کہ طلاق واقع ہونے کے لیے بیوی یا کسی اور کا سننا ضروری نہیں ہے، شوہر اگر بیوی کی طرف نسبت کرکے زبانی یا تحریری  طلاق دے دے تو طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

لہذا صورتِ  مسئولہ میں آپ کے اپنی ساس کے سامنے تین مرتبہ یہ جملہ ’’ میں نے تیری بیٹی کو طلاق دی‘‘  کہنے سے آپ کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں اور نکاح ختم ہوگیا ہے، بیوی حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے، اب آپ کے لیے رجوع کرنا یا تجدیدِ نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔ بیوی عدت (تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110201093

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں