بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا شوہر سے اس کی تنخواہ کا مکمل حساب مانگنا اور نہ دینے پر ازدواجی تعلق قائم کرنے سے روکنا


سوال

 میاں بیوی میں ازدواجی تعلقات اس بنا پر کشیدہ ہیں کہ بیوی کا مطالبہ ہے کہ جب تک شوہر اپنی تنخواہ مجھے نہیں دیں گے اور تنخواہ کا حساب نہیں دیں گے، آپ سے ازدواجی تعلقات قائم نہیں کروں گی، جب کہ شوہر کا کہنا ہے: میں تمہاری ساری ضروریات پوری کرتاہوں، کرتا رہوں گا، لیکن بیوی کا کہنا ہے کہ اگر آپ میری بات مانتے ہیں تو ٹھیک ہے، ورنہ اسی طرح چلتا رہے گا، میں شوہر اور بیوی والا تعلق نہیں رکھوں گی۔ ان کی شادی 2008ء ماہ اگست میں ہوئی تھی، ان کے دو بچے ہیں، پہلے تو سب کچھ اسی طرح صحیح چل رہاتھا، کوئی شکایت یا مطالبہ نہیں تھا، لیکن پچھلے ایک سال سے یہ صورتِ حال درپیش ہے، جو مسئلہ بتایا گیا، جس کی وجہ سے میاں بیوی میں آئے دن ناچاقی رہتی ہے۔شوہر کا کہنا ہے: میری بیوی سے پوچھیں یہ میرے حق کے ساتھ رہنا چاہتی ہے یا نہیں؟ لیکن پوچھنے پر بیوی کا ایک ہی مطالبہ ہے: تنخواہ اور اس کا حساب دوگے تو میں حق دوں گی۔ اس مسئلے میں ہماری راہ نمائی فرمائیں!

جواب

                              واضح رہے کہ  شریعتِ مطہرہ میں میاں بیوی کے ایک دوسرے پر بہت سے حقوق ہیں، جن کی ادائیگی جانبین کے ذمے ہے،  اور آپس کے اتفاق کے لیے تقوی اور خوفِ خدا بنیاد ہے، اس لیے میاں بیوی کو شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق اداکرنے کی فکر  اورباہمی معاملات میں صبر وتحمل سے کام لینا چاہیے، میاں بیوی کے حقوق سے متعلق شریعت کی تعلیمات کا  خلاصہ یہ ہے کہ  بیوی کو چاہیے  کہ وہ اپنے شوہر کو اپنے سے بالاتر سمجھے،  اس کی وفادار اور فرماں بردار رہے، اس کی خیرخواہی اور رضا جوئی میں کمی نہ کرے، اپنی دنیا  اور آخرت کی بھلائی  اس کی خوشی سے وابستہ سمجھے،  اور شوہر کو چاہیے کہ  وہ اپنی بیوی کو اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت سمجھے،  اس  کی قدر اور اس سے محبت  کرے، اگر اس سے غلطی ہوجائے تو چشم پوشی  سے کام لے، صبروتحمل اور دانش مندی سے اس کی  اصلاح کی کوشش کرے،  اپنی استطاعت کی حد تک اس کی ضروریات اچھی طرح پوری کرے، اس کی راحت رسانی اور دل جوئی کی کوشش کرے۔

                               نیز بیوی کا نان ونفقہ اور اس کی رہائش کا انتظام شوہر کے ذمہ لازم ہے،نان نفقہ سے مراد وہ خرچہ ہے جو کہ شوہر پر لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی کو فراہم کرے، اس میں اس کا کھانا پینا، رہائش، اور کپڑوں کی ضروریات شامل ہیں۔ اور اس کی مقدار کی تعیین دونوں کے عرف پر ہے، شرعاً  کوئی مقدار مقرر نہیں، بلکہ متوسط اعتبار سے خرچ کرنا شوہر پر لازم ہے یعنی میاں بیوی اگردونوں مال دار  ہیں تو اسی حساب سے نفقہ دینا ہوگا، دونوں تنگ دست ہیں تو  اپنی وسعت کے مطابق ادا کرنا ہوگا، اور اگر ایک مال دار دوسرا تنگ دست ہے تو متوسط طبقہ کے مطابق نفقہ دینا ہوگا،  اگر دونوں فریق کسی مقدار پر متفق ہوجائیں تو اسی کو طے کیا جاسکتا ہے ۔

                              لیکن اس نان ونفقہ کے علاوہ  شوہر  سے اس کی تمام تنخواہ کی رقم کا مطالبہ کرنا یا اس کے حسابات کی نگرانی کا مطالبہ کرنا جائز  نہیں ہے، شوہر جو  کچھ کماتا ہے وہی اس کا مالک ہے، اس کی ذاتی تنخواہ میں بیوی کا  کوئی حق و حصہ نہیں ہے اور نہ ہی اس کے  مطالبہ کا حق ہے،  اور نہ ہی وہ اپنی ملکیت کی چیزوں کا حساب دینے کا پابند ہے۔ بیوی کا یہ کہنا کہ ” جب تک شوہر اپنی تنخواہ مجھے نہیں دیں گے اور تنخواہ کا حساب نہیں دیں گے، آپ سے ازدواجی تعلقات قائم نہیں کروں گی“ شرعاً  ناجائز اور حرام ہے، اس لیے شوہر  کی جنسی فطری ضرورت اور خواہش کی تکمیل بیوی پر لازم ہے، شرعی عذر کے بغیر بیوی کے لیے  شوہر کو  تسکینِ شہوت سے روکنا جائز نہیں ہے، احادیث میں ایسی عورت کے  لیے  سخت وعیدات آئی ہیں، اور شوہر کو منع کرنے کی وجہ سے عورت گناہ گار ہوگی۔ حد یثِ مبارک  میں ہے:

"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ، فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ". رواه البخاري (بدء الخلق/2998).

ترجمہ: جب کسی شوہر نے اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلایا اور وہ نہ آئی، پھر اسی طرح غصہ میں اس نے رات گزاری تو صبح تک سارے فرشتہ اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔

                         اور  اگر  بیوی میں شوہر کی جسمانی خواہش پوری کرنے کی طاقت نہیں ہے، یا طاقت تو ہے لیکن باوجود سمجھانے کے وہ تعلق قائم کرنے نہیں دیتی اور شوہر ایک سے زائد بیویوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ  مالی جسمانی حقوق ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہو تو اس کے لیے ایک اور نکاح کی اجازت ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في البحر : واتفقوا على وجوب نفقة الموسرين إذا كانا موسرين، وعلى نفقة المعسرين إذا كانا معسرين، وإنما الاختلاف فيما إذا كان أحدهما موسراً والآخر معسراً، فعلى ظاهر الرواية الاعتبار لحال الرجل، فإن كان موسراً وهي معسرة فعليه نفقة الموسرين، وفي عكسه نفقة المعسرين. وأما على المفتى به فتجب نفقة الوسط في المسألتين، وهو فوق نفقة المعسرة ودون نفقة الموسرة". (574/3) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144111201384

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں