بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو الحجة 1441ھ- 14 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا شوہر سے یہ کہنا کہ "مجھے فارغ کردیں"کیا اس سے طلاق ہوئی؟


سوال

کسی بات پر جھگڑا ہو گیا،  شوہر نے بیوی کو تھپڑ مارا اور بیوی نے دو مرتبہ یہ کہہ دیا کہ "مجھے ابھی فارغ کریں" جب کہ شوہر نے اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا تو اس بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں بیوی کا  شوہر کو  یہ جملہ  "مجھے ابھی فارغ کریں" کہنا اور اس کے جواب میں شوہر کے خاموش رہنے سے بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، اس لیے کہ طلاق دینے کا اصل اختیار شوہر کو حاصل ہے،  صرف بیوی کے ازخود  طلاق کے جملے  کہہ دینے سے اس پر طلاق واقع نہیں ہوجاتی، جب تک کہ شوہر نے اس کو اپنے اوپر طلاق واقع کرنے کا اختیار نہ دیا ہو۔

نیز یہ واضح رہے کہ بیوی چہرہ پر تھپڑ مارنا جائز نہیں ہے،  قرآن کریم میں سورۂ نساء کی آیت 34میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان بیوی کی اصلاح کے علی الترتیب تین طریقے ذکر فرمائے ہیں:

یعنی عورت اگر نافرمان ہے یا اس کی جانب سے نافرمانی کااندیشہ ہے، تو پہلا درجہ اصلاح کا یہ ہے کہ نرمی سے اس کو سمجھائے ،اگربیوی  محض سمجھانے سے باز نہ آئے، تو دوسرا درجہ یہ ہے کہ  شوہر اپنا بستر علیحدہ کر دے، تاکہ وہ اس علیحدگی سے شوہر کی ناراضگی کا احساس کر کے اپنے فعل پر نادم ہو جائے- چناں چہ ایک صحابی سے روایت ہے:

''میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہماری بیویوں کا ہم پر کیا حق ہے؟ آپ نے فرمایا: جب تم کھاؤ تو انہیں بھی کھلاؤ اور تم پہنو تو انہیں بھی پہناؤ اور چہرے پر مت مارو، اگر اس سے علیحدگی کرنا چاہو تو صرف اتنی کرو کہ (بستر الگ کر دو) مکان الگ نہ کرو ''۔

اور جوعورت  اس سزا  سے بھی متاثر نہ ہو تو پھر اس کو معمولی مار مارنے کی بھی اجازت ہے، جس سے اس کے بدن پر اثر نہ پڑے، اور ہڈی ٹوٹنے یا زخم لگنے تک نوبت نہ آئے اور چہرہ پر مارنے کو مطلقاً منع فرما دیا گیا ہے۔

چناںچہ "بخاری شریف"  کی روایت میں ہے:

''  نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو غلام کی طرح نہ مارے ؛کیوں کہ یہ بات مناسب نہیں کہ اول تو اسے مارے پھر اخیر دن اس سے اپنی خواہش پوری  کرے۔ ''(معارف القرآن)

نیز ایک حدیث مبارک میں ہے:

 حضرت ایاس ابن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ:  اللہ کی لونڈیوں ( یعنی اپنی بیویوں) کو نہ مارو،  پھر اس حکم کے کچھ دنوں بعد حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ:  آپ ﷺ نے چوں کہ عورتوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے؛ اس لیے عورتیں اپنے خاوندوں پر دلیر ہو گئی ہیں، آپ ﷺ نے عورتوں کو مارنے کی اجازت عطا فرما دی،  اس کے بعد بہت سی عورتیں رسول کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کے پاس جمع ہوئیں اور اپنے خاوندوں کی شکایت کی کہ وہ ان کو مارتے ہیں، رسولِ کریم ﷺ کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ:  محمد ﷺ کی بیویوں کے پاس بہت سی عورتیں اپنے خاوندوں کی شکایت لے کر آئی ہیں، یہ لوگ جو اپنی بیویوں کو مارتے ہیں تم میں سے بہتر لوگ نہیں ہیں۔

مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:
"وَعَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لَا تَضْرِبُوا إِمَاءِ اللَّهِ» فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ الله فَقَالَ: ذَئِرْنَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ فَرَخَّصَ فِي ضَرْبِهِنَّ فَأَطَافَ بَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ لَيْسَ أُولَئِكَ بِخِيَارِكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه والدارمي".(2/ 973)۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111201852

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں