بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا شوہر کی نافرمانی کرنا / اولاد کا باپ کی نافرمانی کرنا


سوال

میری بیوی میری پوری طرح فرمانبرداری نہیں کرتی اوربچوں کو بھی میرے خلاف ورغلا رہی ہے اوربچےبھی ماں کاساتھ دیتے ہیں ،میرےبچےبڑےہیں اورکماکرمجھےپیسےبھی نہیں دیتے ،ماں کودیتےہیں،میرےساتھ زیادہ بات بھی نہیں کرتے، حالانکہ میں کوئی  برابھلانہیں کہتاہوں ،گھرکازیادہ خرچہ بھی میں کرتاہوں، مکان  کا کرایہ بھی میں دیتا ہوں، اس کےباوجود بچےمجھ سےدوررہتےہیں اورمیں کچھ بھی نہیں کہتا،صرف صبرکرتاہوں ،ایسی صورت میں میرے لئے کیافضیلت ہوگی؟ اورایسی بیوی اوربچوں کی کیاسزاہوگی ؟اورایسےبچوں کی شادیاں مجھےکرانی چاہیےکہ نہیں؟ مجھے بہت تکلیف دیتے ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ   شریعت مطہر ہ میں بیوی پر شوہر کی اطاعت  کو واجب قرار دیا گیا ہے ،بیوی کا شوہر کی نافرمانی کرنا ،اس کو تکلیف پہنچانا ،بچوں کو اس کے خلاف ورغلانا شرعا ناجائز و حرام ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد احادیث میں عورت پر اپنے شوہر کی اطاعت کو لازم قراردیا ہے اور نافرمانی پر سخت وعیدات ارشاد فرمائیں ہیں ،چنانچہ حدیث شریف میں ہے :

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كنت آمرًا أحدًا أن يسجد لأحدٍ لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها». رواه الترمذي".

 (مشكاة المصابيح، كتاب النكاح، باب عشرة النساء ص: 281 ط: قديمي)

ترجمہ:"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:"اگر میں کسی کو(خداوندتعالٰی کے علاوہ)کسی (اور)کے سامنے سجدہ کرنے کاحکم کرتا تو بیوی کو خاوند کے سامنے سجدہ کرنےکاحکم کرتا"۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن ابن عباس، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «أريت النار فإذا أكثر أهلها النساء، يكفرن» قيل: أيكفرن بالله؟ قال: " يكفرن العشير، ويكفرن الإحسان، لو أحسنت إلى إحداهن الدهر، ثم رأت منك شيئا، قالت: ما رأيت منك خيرا قط. " 

(صحیح البخاری، باب کفران العشیر،رقم الحدیث:29، ج:1، ص:15، ط:دارطوق النجاۃ)

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :میں نے جہنم کو دیکھا تو میں نے آج جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا اور میں نے اس (جہنم) میں عورتوں کو مردوں کی نسبت زیادہ پایا۔ لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ وہ کیوں؟ تو آپ ﷺ نے بتایا کہ ان کے کفر کی وجہ سے، کہا گیا کہ کیا وہ اللہ کا کفر کرتی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:وہ خاوند کی نافرمانی کرتی ہیں اور احسان فراموشی کرتی ہیں، اگر آپ ان میں سے کسی کے ساتھ زمانہ بھر احسان کریں , پھر وہ آپ میں کوئی ناگوار بات دیکھ لیں تو کہتی ہے میں نے تجھ میں کبھی خیر نہیں دیکھی۔

اسی طرح شریعت مطہر ہ میں اولاد پر اپنے باپ اور ماں دونوں کی خدمت اور  اطاعت  کو فرض کیا گیا ہے ،والدین یا ان میں سے ایک کی نافرمانی کرنا اور ان کو  کسی بھی قسم کی تکلیف پہنچاناناجائز وحرام ہے ،قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں والدین کے حقوق   سے متعدد ارشادات وارد ہوئے ہیں :چنانچہ قرآن مجید میں ہے :

"{وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا .وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا}." [الإسراء:23، 24]

ترجمہ:"اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی عبادت مت کرو اور تم اپنے ماں باپ کے ساتھ  حسن سلوک کیا کرو اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ  جاویں سو ان کو کبھی (ہاں ) ہوں بھی مت کرنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے خوب ادب  سے بات کرنا اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحمت  فرمائیے جیسا انہوں نے مجھ کو بچپن مین پالا پرورش کیا ۔"

 حدیث شریف میں ہے:

"وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «رغم أنف رجل ذكرت عنده فلم يصل علي ورغم أنف رجل دخل عليه رمضان ثم انسلخ قبل أن يغفر له ورغم أنف رجل أدرك عنده أبواه الكبر أو أحدهما فلم يدخلاه الجنة»."

(مشكاة المصابيح 1/ 292 الناشر: المكتب الإسلامي)

ترجمہ:"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " خاک آلود ہو اس آدمی کی ناک کہ اس کے سامنے میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھے پر درود نہ بھیجا، خاک آلود ہو اس آدمی کی ناک کہ اس پر رمضان آیا اور اس کی بخشش سے پہلے گذر گیا اور خاک آلود ہو اس آدمی کی ناک کہ اس کے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک نے اس کے سامنے بڑھاپا پایا اور انہوں نے اسے جنت میں داخل نہیں کیا۔"

 حدیث پاک  میں ہے:

"عن أبي أمامة، أن رجلا قال: يا رسول الله، ما حق الوالدين على ولدهما؟ قال: «هما جنتك ونارك."

(سنن ابن ماجه ،ج: 2، ص: 1208 ،كتاب الأدب، باب برالوالدين، ط: دارإحياء الكتب العربية)

مفہوم:"ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا : اولاد پر ماں باپ کا کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ دونوں تیری جنت یا دوزخ ہیں" (یعنی ان کی اطاعت و خدمت جنت میں لے جاتی ہے اور ان کے ساتھ بدسلوکی جہنم میں لے جاتی ہے)۔"

حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رجل: يا رسول الله! من أحق الناس بحسن الصحبة؟ قال: "أمك" ثم أمك. ثم أمك. ثم أبوك. ثم أدناك أدناك."

( صحيح مسلم،كتاب البر والصلة و الآداب، باب برالوالدين و أيهما أحق به، ج: 3، ص: 574 ،ط: مكتبة البشرى)

مفہوم:" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ بہتر سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟فرمایاتمہاری ماں ،پھر تمہاری ماں ،پھر تمہاری ماں پھر تمہارا باپ،پھر جو تم سے (رشتہ داری میں )قریب ہو ،پھر جو تم سے قریب ہو۔"

حدیث شریف  میں ہے: 

 "عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:رضى الرب في رضى الوالد، وسخط الرب في سخط الوالد."

(‌‌سنن الترمزی ،أبواب البر والصلة، باب ما جاء من الفضل في رضا الوالدين، 4/ 310 ط: مطبعة مصطفى البابي الحلبي)

مفہوم:"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ: رب کی رضا والد کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے."

حدیث شریف میں ہے:

"قال أبو الدرداء: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:الوالد أوسط أبواب الجنة، فإن شئت فأضع ذلك الباب أو احفظه."

(سنن الترمزی ،أبواب البر والصلة، باب ما جاء من الفضل في رضا الوالدين،4/ 311، ط: مطبعة مصطفى البابي الحلبي)

مفہوم: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، اگر تم چاہو تو اس دروازہ کو ضائع کر دو اور چاہو تو اس کی حفاظت کرو ۔"

الغرض والدین کی خدمت ،اطاعت ،فرمانبرداری اولاد پر لازم ہے ،آج اولاد اپنے والدین کے ساتھ جو سلوک کرے گی پھر ان کی اولاد اپنے والدین کے ساتھ  اس سے بڑھ کر سلوک کرے گی ۔

مذکورہ صورت حال میں سائل کے لیے  حکم  یہ  ہے کہ وہ صبر کرے  اور اللہ پاک سے ہر نماز کے بعد بیوی بچوں کے لیے دعا کرے ،باقی اولاد پر خرچ کرنے اور ان کی شادی کروانے سے متعلق تفصیل یہ ہے کہ اگر  اولاد کے پاس اپنا مال ہے تو ان کا خرچہ ان کے مال پر لازم ہوگا ،باپ پر لازم نہیں ہے ،اگر اولاد کے پاس اپنا مال نہیں ہے تو بیٹی کی شادی تک اس کاخرچہ با پ پر لازم ہے اور بیٹے کے کمانے کے قابل ہونے تک اس کا خرچہ  باپ پر لازم ہے ،جب بیٹا خود کمانے کے قابل ہو جائے تو با پ پر اب اس کا خرچہ لازم نہیں ہے ،البتہ بلوغت کے بعد اس  کی مناسب جگہ پر شادی کا فکر  اور کوشش کرنا والدین کی ذمہ دار ی ہے ،باقی شادی کا خرچہ ،بیوی کا حق مہر وغیرہ کا انتظام لڑکے کو خود کرنا ہوگا یا والد تبرعاً کرنا چاہیے تو کرے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"الثاني أن يكون الأب غنيا وهم صغار، فإما أن يكون لهم مال أو لا، فإن لم يكن فعليه نفقتهم إلى أن يبلغ الذكر حد الكسب وإن لم يبلغ الحلم."

(رد المحتار, 4/410ط:سعيد)

 فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408100492

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں