بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 رجب 1444ھ 03 فروری 2023 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا ناراض ہوکر میکے چلی جانا


سوال

جولائی 2020ء کو میرا نکاح ہواتھا،اس وقت میرے حالات نارمل تھے ،بعد میں میرے مالی حالات کمزور ہوگئے ،جس کی وجہ سے میرے اور بیوی کے درمیان کشیدگی پیداہوئی،میں اپنی استظاعت کے مطابق اس کے اخراجات پورا کررہاتھا،اس کے بعض فرمائشیں ایسی تھیں جو مجھ سے پوری نہیں ہو پارہی تھی،مثلاً باہر لے جانا،باہر کا کھاناکھلانا،جس کی وجہ سے کشیدگی بڑھتی چلی گئی ۔اس دوران اللہ تعالی نے ہمیں اولاد کی نعمت سے بھی نوازاایک بیٹا اورایک بیٹی ہیں،جب حالات میں مزید کشیدگی آگئی تو وہ مجھے چھوڑکر اپنے گھر چلی گئی ،تقریباًایک سال ہونے کو ہے وہ واپس آنے پر راضی نہیں ہے،حالاں کہ میرے گھر میں اس کو کھانا پینااور دیگر ضروریات زندگی میری استطاعت کے مطابق مل رہی تھی،اپنی اولاد کی بھی ضروریات پوری کرتاتھا،اس کے باوجود وہ کسی طور پر بات نہیں کررہی ،اس کے جانے کے بعد میں اپنی بیٹی کے اخراجات لیکر اس کے گھر چلا جاتا،گھنٹوں انتظار کے بعد دروازہ کھول کر سامان وصول کیا جاتا لیکن مجھ سے ملتی نہیں تھی،اب اس نے میرا نمبر بلاک کردیا ہے،اور اس کے گھر والوں نے مجھے گھر جانے اور بیٹی کے ضروریات زندگی پہنچانے سے منع کردیا،دومہینے پہلے میرا بیٹا پیدا ہوا،لیکن اب تک مجھے ان سے ملنے نہیں دیا گیا،میں شدید ذہنی کرب میں مبتلا ہو ،راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل اگر اپنے اوپر  بیوی کے واجب الاداء حقوق ادا کرتا رہا تو سائل کی بیوی کابلاوجہ شرعی  اپنے  شوہر سے ناراض ہوکر میکے میں  رہنا اور شوہر کے بلانے کے باوجود نہ آنا  سخت گناہ ہے، ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ : شوہر کا بیوی پر کیا حق ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : شوہر کا حق اس پر یہ ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر اپنے گھر سے نہ نکلے، اگر وہ ایسا کرے گی تو آسمان کے فرشتہ اور رحمت وعذاب کے فرشتہ  اس پر لعنت بھیجیں گے، یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے، اور جو عورت شوہر کی فرماں  برداری  اور اطاعت کرے اس کی بڑی فضیلت  بیان  کی گئی ہے،      لہذا سائل کی بیوی پر لازم ہے کہ وہ اپنے شوہر کے پاس آجائے، اور شوہر پر  بھی لازم ہے کہ   وہ بیوی کے تمام جائز حقوق کی رعایت کرے، اگر بیوی کی کوئی جائز شکایت ہو تو اس کا ازالہ کرے، سسرال والوں کو چاہیے کہ اپنے داماد سے خندہ پیشانی سے ملیں اور صلح صفائی میں ان کا ساتھ دیں ،اور بیوی کو اس سے ملاقات کرنے دیں، تاکہ میاں بیوی آپس میں افہام وتفہیم سے مسئلہ کو حل کرکے خوش گوار زندگی گزاریں ،لیکن اگر سسرال والےسائل کو اپنی بیوی سے  ملاقات نہ کرائیں تو اس وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوں گے۔قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں عورتوں کے حقوق بڑی اہمیت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں ، شوہر پر  عورت کے حقوق ادا کرنا بھی بہت ضروری ہے،  معاملہ کے حل کے لیے سائل کو چاہیئے کہ دونوں خاندانوں کے معزز افراد کو بیچ میں ڈال کر افہام وتفہیم سے اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کرے،اللہ نے چاہا توکوئی راستہ نکل آئیگا،نیز سائل کو چاہیے کہ اللہ تعالی سے خوب دعا بھی کرے۔

حدیثِ مبارک میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كنت آمر أحداً أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها» . رواه الترمذي".

(مشکاۃ المصابیح، 2/281،  باب عشرۃ النساء، ط: قدیمی)

ترجمہ: رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اگر میں کسی کو یہ حکم کرسکتا کہ  وہ کسی (غیر اللہ) کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔(مظاہر حق، 3/366، ط؛  دارالاشاعت)

ایک اور حدیثِ مبارک میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المرأة إذا صلت خمسها وصامت شهرها وأحصنت فرجها وأطاعت بعلها فلتدخل من أي  أبواب الجنة شاءت» . رواه أبو نعيم في الحلية".

(مشکاۃ المصابیح، 2/281،  باب عشرۃ النساء، ط: قدیمی)

ترجمہ:  حضرت انس  رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جس عورت نے  (اپنی پاکی کے  دنوں میں پابندی کے ساتھ) پانچوں وقت کی نماز پڑھی،  رمضان کے  (ادا اور قضا) رکھے،  اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی  اور اپنے خاوند  کی فرماں برداری کی  تو (اس عورت کے لیے یہ بشارت ہےکہ) وہ جس دروازہ سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔(مظاہر حق، 3/366، ط: دارالاشاعت)۔

فتاوی شامی میں ہے:

"فلا تخرج إلا لحق لها أو عليها  أو لزيارة أبويها كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة، ولكونها قابلةً أو غاسلةً لا فيما عدا ذلك.

وفي الرد : (قوله: فيما عدا ذلك) عبارة الفتح: وأما عدا ذلك من زيارة الأجانب وعيادتهم والوليمة لا يأذن لها ولا تخرج..."

(باب المھر،مطلب فی منع الزوجۃنفسھا لقبض المھر،ج:3،ص:145،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404100475

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں