بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا اسلام کو گالیاں دینے کی وجہ سے نکاح ختم ہونے کا حکم


سوال

 میری بیوی شروع سے ہی بے تکی حرکتیں کر تی رہی ہے، لاکھ سمجھانے کے باوجود کوئی فرق نہ پڑا،  یہاں تک کہ سسرال اور میکے کے سارے لوگ اس کی طوفان بد تمیز ی اورہٹ دہر می سے تنگ آ گئے، اپنے تئیں  میں نے  ہر امکانی صورت پر غورکیا اور نباہ کی کو شش کر تا رہا،  یہاں تک کہ تقریباً نو ماہ میکے میں روکے رکھا، پھر بھی بات نہ بنی تو تنبیہًا ایک طلاق  دے کر رجعت کر لی،  لیکن مرض بڑھتا ہی گیا  جوں جوں دوا کی ،اس کے  بعد ایک مرتبہ بیوی کے بار بار طلاق اور  خرچ کے مطالبہ پر میں نے کہاکہ "میں نہیں چاہتا تم چاہتی ہو تو تم آزاد ہو" یعنی اپنے طلاق لینے کے بارے میں، پھر بھی وہ اصرار کر تی رہی کہ نہیں دو ، لکھ کر دو،  پھر دوسر ی مجلس میں بھی بار بار طلاق اور خرچ کا مطالبہ کیا، ایک مرتبہ اس کی بدزبانی اور بد تمیزی کے دوران اس سے کسی نےکہا کہ اللہ میاں سے ڈر نہیں لگتا؟ تو کہا کہ نہیں میں اللہ سےنہیں ڈر تی،  ایک مرتبہ آخرت کاتذکرہ کرکے ڈرایاگیاتوکہا کہ جوہوگادیکھ لوں گی، ایک مرتبہ اپنے سسر سے کہنے لگی کہ بڑے  حافظِ  قرآن بنتے  ہیں تیسوں پارہ آ پ کی   ۔۔۔ میں ڈال دوں گی ( نعوذباللہ) !

اب سوال یہ  ہے کہ مذکورہ بالا صورتوں کے  مد نظرکیا وہ میرے نکاح میں ہے؟  اگر ہے توکس حالت میں ہے؟  اور  اگر نہیں ہے تو نکاح میں رکھنے کی کیا صورت ہے؟  علیحدگی  کی صورت میں بچے کس کے پاس رہیں گے؟ میرےچار بچے بھی ہیں جن کی عمریں ہیں:  ساڑھے پانچ سال، چار سال،  ڈھائی سال، سوا سال جوکہ فی الحال میرے ساتھ ہیں۔

جواب

بصورتِ  مسئولہ  جب شوہر نے بیوی کے طلاق اور خرچہ کے مطالبہ پر یوں کہا "میں نہیں چاہتا، تم چاہتی ہو تو تم آزاد ہو " تو ان الفاظ سے ایک طلاق  صریح بائن واقع ہوچکی ہے،نکاح ٹوٹ چکاہے ۔اب بیوی سے رجوع کا طریقہ یہ  ہے کہ گواہوں کی موجودگی میں نئے مہرکے ساتھ دوبارہ نکاح ہوسکتاہے ۔ دوبارہ نکاح کی صورت میں آئندہ کے لیے شوہرکوصرف ایک طلاق کاحق حاصل ہوگا۔

ملحوظ رہے کہ سائل اس سے پہلے بھی ایک طلاقِ رجعی دے کر رجوع کرچکا ہے؛ لہٰذا مذکورہ طلاق دوسری طلاق ہوئی۔

باقی مذکورہ  خاتون   کے خط کشیدہ الفاظ   الفاظِ کفریہ  ہیں، جس کی وجہ سے وہ دائرۂ  اسلام سے خارج ہے، اس  پر  لازم ہے کہ وہ تجدیدِ ایمان کرے اور صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرے۔

نیز  علیحدگی کے بعد بچوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ سات  سال تک بچے کی پرورش اور نو سال تک بچی کی پرورش کا حق ماں کے پاس ہوگا،بشرطیکہ وہ  دوسری جگہ  (بچوں کے محرم کے علاوہ سے) شادی نہ کرلے، پس اگر اس نے شادی کرلی تو  ماں کا حق ساقط ہوجائے گا ، اسی طرح سے اگر ماں فسق و فجور و حرام کاری کے راستہ پر ہو تو اس صورت میں بھی بچوں کی پروش کا حق ساقط ہو جائے گا اور بچوں کی نانی کو مقررہ عمر مکمل ہونے تک اپنے پاس رکھنے کا حق ہوگا، البتہ اگر نانی وفات پاگئیں ہوں تو بچے دادی کی پرورش میں رہیں گے ، بہر صورت بچوں کے نفقہ و دیگر اخراجات کی ذمہ داری باپ یعنی سائل پر ہوگی اور حسبِ استطاعت خرچہ کرنا سائل پر لازم ہوگا اور استطاعت سے زائد خرچہ کا مطالبہ سابقہ بیوی کی جانب سے کرنا شرعاً درست نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: حرام) من حرم الشيء بالضم حراما امتنع، أريد بها هنا الوصف و معناه الممنوع فيحمل ما سبق، و سيأتي وقوع البائن به بلا نية في زماننا للتعارف ... و أورد أنه إذا وقع الطلاق بهذه الألفاظ بلا نية ينبغي أن يكون كالصريح في أعقابه الرجعية.

و أجيب بأن المتعارف إنما هو إيقاع البائن لا الرجعي حتى لو قال لم أنو لم يصدق ولو قال مرتين ونوى بالأولى واحدة وبالثانية ثلاثا صحت نيته عند الإمام وعليه الفتوى كما في البزازية ح عن النهر ... و قد مر أن الوقوع بقوله علي الطلاق إنما هو للعرف لأنه في حكم التعليق، وكذا علي الحرام وإلا فالأصل عدم الوقوع أصلا كما في طلاقك علي كما تقدم تقريره، فحيث كان الوقوع بهذين اللفظين للعرف ينبغي أن يقع بهما المتعارف بلا فرق بينهما، وإن كان الحرام في الأصل كناية يقع بها البائن لأنه لما غلب استعماله في الطلاق لم يبق كناية، ولذا لم يتوقف على النية أو دلالة الحال، ولا شيء من الكناية يقع به الطلاق بلا نية أو دلالة الحال كما صرح به في البدائع، ويدل على ذلك ما ذكره البزازي عقب قوله في الجواب المار إن المتعارف به إيقاع البائن لا الرجعي."

(باب الكنايات، ج:3، ص:299، ط:ايج ايم سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(ومنها: ما يتعلق بذات الله تعالى وصفاته وغير ذلك) يكفر إذا وصف الله تعالى بما لايليق به، أو سخر باسم من أسمائه، أو بأمر من أوامره، أو نكر وعده ووعيده، أو جعل له شريكاً، أو ولداً، أو زوجةً، أو نسبه إلى الجهل، أو العجز، أو النقص ويكفر بقوله: يجوز أن يفعل الله تعالى فعلاً لا حكمة فيه، ويكفر إن اعتقد أن الله تعالى يرضى بالكفر، كذا في البحر الرائق".

(مطلب في موجبات الكفر أنواع منها ما يتعلق بالإيمان والإسلام، ج:2، ص:258، ط:مكتبه رشيديه)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدةً أو فاجرةً غير مأمونة، كذا في الكافي ... وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجةً بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة ... والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني، وقدر بسبع سنين، وقال القدوري: حتى يأكل وحده، ويشرب وحده، ويستنجي وحده. وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين، والفتوى على الأول. والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض. وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى -: إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق، وهذا صحيح. هكذا في التبيين... وإذا وجب الانتزاع من النساء أو لم يكن للصبي امرأة من أهله يدفع إلى العصبة فيقدم الأب، ثم أبو الأب، وإن علا".

(الباب السادس عشر، ج:1، ص:541، ط:مكتبه رشيديه)

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144202200657

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں