بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الاول 1444ھ 02 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے ناجائز تعلقات سے توبہ تائب ہونے کی صورت میں شوہر کے لیے طلاق کا حکم


سوال

میں روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب میں ہوتا ہوں، میری غیر موجودگی کافائدہ اٹھاکر میری بیوی نا محرم لڑکوں سے فون پر دوستیاں کرتی ہے، تین مرتبہ اس کو میں نے  یہ سب کرتے ہوئے پکڑا، وہ معافی مانگتی اور دوبارہ ایسا نہ کرنے کی قسم اٹھا تی تو میں اللہ کا خوف کرتے ہوئےاور اپنے بچوں کی خاطر اس کو معاف کر دیتا، مگر پھراس نےبدکاری بھی کر ڈالی اور اب دوبارہ سے معافی کی طلب گار ہے ، وہ ایک موقع اور چاہتی ہے، مجھے نہیں پتا کہ وہ واقعی شرمندہ ہےیا محض طلاق سے بچنے کے لیے ایساکررہی ہے؟ میں اب اسے اپنے ساتھ رکھنا نہیں چاہتا ہوں، مگر میری والدہ اس کو ایک اور موقع دینے پر بضد ہیں!   برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں کہ کیا شریعت ایسی عورت کو معاف کرنے کی ترغیب دیتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی کے لیے نامحرم سے بات کرنا یا تعلقات رکھنا   ناجائز اور حرام ہے، اس پر توبہ و استغفار کرنا لازم ہے، البتہ اگر اب وہ صحیح معنٰی میں توبہ تائب ہوگئی ہےاور اصلاح کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے یا گزارنا چاہتی ہے  تو اس کو موقع دینا چاہیے، حدیث شریف میں آتا ہے کہ تمام بنی آدم خطا کار ہیں اور بہترین خطا کار وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں، لہٰذا اگر آپ کی بیوی سے  ماضی میں غلطی ہوئی ہے، لیکن وہ اس غلطی سے توبہ کرچکی ہے اور پشیمان ہے تو آپ  اسے طلاق نہ  دیں، اس  کی پردہ پوشی کرتے ہوئے اسے اپنے ساتھ  رکھیں اور اچھا برتاؤ کریں؛  تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی غلطیوں اور گناہوں پر بھی پردہ ڈالیں اور آپ کو بھی معاف کریں۔ 

لیکن  اگر بیوی اب بھی اس میں مبتلا ہے تو پھر آپ کے لیے اسے ایک طلاق دے کر فارغ کرنا جائز ہوگا، تاہم واجب نہیں۔

 حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ میری بیوی کسی چھونے والے ہاتھ کو جھٹکتی نہیں،  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے طلاق دے دو، اس نے عرض کیا یہ ممکن نہیں؛ کیوں کہ میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس کی نگہبانی کرو( تا کہ وہ بدکاری میں مبتلا نہ ہو سکے)۔  

لہٰذا آپ کو بھی چاہیے کہ یا تو اپنی اہلیہ اور بچوں کو اپنے پاس بلاکر ساتھ رکھیں، یا آپ بھی یہیں منتقل ہوکر یہاں روزگار کا انتظام کریں؛ تاکہ آپ کی نگرانی بھی رہے اور بیوی سے زیادہ عرصہ دور رہنے کی وجہ سے اس طرح کی صورت پیش نہ آئے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5 / 2171):

"وعن ابن عباس قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن لي امرأةً لاترد يد لامس، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «طلقها» قال: إني أحبها قال: «فأمسكها إذاً».

(وعن ابن عباس قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن لي) : بفتح الياء وسكونها (امرأةً) : بالنصب على اسم إن (لاترد يد لامس) . أي: لاتمنع نفسها عمن يقصدها بفاحشة، (فقال النبي صلى الله عليه وسلم: (طلّقها): قال: إني أحبها. قال: (فأمسكها إذن): أي: فاحفظها لئلاتفعل فاحشةً، وهذا الحديث يدل على أن تطلق مثل هذه المرأة أولى، لأنه عليه الصلاة والسلام قدم الطلاق على الإمساك، فلو لم يتيسر تطليقها بأن يكون يحبها، أو يكون له منها ولد يشق مفارقة الولد الأم، أو يكون لها عليه دين لم يتيسر له قضاؤه، فحينئذ يجوز أن لايطلقها، ولكن بشرط أن تمنعها عن الفاحشة، فإذا لم يمكنه أن يمنعها عن الفاحشة يعصي بترك تطليقها".

اعلاء السنن میں ہے:

"وعند تفریط المرأۃ في حقوق اللّٰه تعالیٰ الواجبة علیها مثل الصلاة ونحوها أن تکون غیر عفیفة أو خارجة إلی المخالفة والشقاق مندوب إلیة". 

(إعلاء السنن / کتاب الطلاق ۱۱؍۱۶۲ بیروت)

نفع المفتی والسائل( ۱۶۳ ) میں ہے:

"إذا اعتادت الزوجة الفسق، علیه الأمر بالمعروف والنهي عن المنکر، والضرب فیما یجوز فیه؛ فإن لم تنزجر لایجب التطلیق علیه؛ لأن الزوج قد أدی حق والإثم علیها، هذا ما اقتضاه الشرع، وأما مقتضی غایة التقویٰ فهو أن یطلقها، لکن جواز الطلاق إنما هو إذا قدر علی أداء المهر وإلا فلایطلقها". 

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200733

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں