بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1444ھ 01 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

یکے بعد دیگرے دو شوہروں کے انتقال ہونے پر بیوہ کو دونوں کی پنشن لینا


سوال

میرے والد کا انتقال 1986 میں ہوا تھا،  وه ایک  پرائیویٹ کمپنی کے ملازم تھے تو میری والدہ کو   E.O.B.I کی طرف سے پینشن   ملنے لگی اور 1989 میں میری والدہ کا نکاح ہوگیا اور ان کا انتقال بھی 1999 میں ہوگیا،  اب  میری والدہ اپنے دونوں  شوہروں کی پنشن لیتی ہے،  تو یہ دونو ں پینشن لینا جائز ہے؟

جواب

پینشن کی رقم ادارہ کی طرف سے عطیہ اور تبرع ہوتی ہے، ادارہ   جس کے نام پر جس شرائط کے مطابق  جاری کرے وہی  شخص ان قواعد وضوابط کے مطابق اس کا مالک ہوتا ہے۔

لہذا اگر آپ کی والدہ کو   یکے بعد دیگرے دونوں شوہر وں کے انتقال کے بعد ان کے ادارہ کی طرف سے پنشن ملتی ہے، اور ان اداروں کے ضابطے میں یہ شرط نہیں ہے کہ بیوہ دوسری شادی کرلے تو اس کو پنشن نہیں ملے گی، یا ایک بیوہ عورت  دو پنشن نہیں لی سکتی   وغیرہ، تو اس صورت میں آپ کی والدہ کے لیے دونوں پنشن  لینا جائز ہوگا۔

یہ ملحوظ رہے کہ  (EOBI) حکومتِ پاکستان کی طرف سے پنشن اور بڑھاپے  کی انشورنس کی سہولت کے لیے قائم فنڈ کا ادارہ ہے جو ملازمین اور ان کے ورثاء کو ان کی سروس کی مدت کے مطابق پنشن و دیگر منفعت دیتا ہے۔کمپنیاں ملازمین کی تنخواہ میں سے کچھ پیسے کاٹ کر ڈالتی ہیں اور اپنی طرف سے بھی اتنا ہی اس میں دیتی ہیں۔اس رقم کی  انویسٹ منٹ  سودی  سرمایہ کاری  کے اداروں میں بھی کی جاتی ہے۔

اس کا فقہی حکم بھی یہ ہے کہ سرمایہ  کاری کا مذکورہ طریقہ کار تو ناجائز ہے، لیکن اگر ملازم سے  یہ کٹوتی جبری ہو ،  ملازم کو اس میں اختیار نہ ہو تو  اس صورت میں جو منافع ملازمین یا ان پس ماندگان کو    ملتے ہیں وہ ناجائز نہیں ہوں گے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 200120

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں