بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، چھ بیٹے اور چار بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم


سوال

والد کا انتقال ہو گیا ہے، وارثین میں والدہ، 6 بھائی اور  4 بہنیں ہیں، انتقال کے وقت دو رہائشی مکانات، والد کی ملکیت میں تھے، جن کی مجموعی قیمت تقریباً 60 لاکھ ہے،  اس کے علاوہ نقد رقم میں سے 6لاکھ 50ہزار تھے، جن سے آخری 1بھائی اور 1بہن کی شادی کی گئی اور موجودہ مکان کی  روغن اور مرمت کا کام کیا گیا، نقدرقم تمام وارثین کی پیشگی رضا مندی اور اتفاقِ رائے سے خرچ کی گئی، اب ترکے کی تقسیم شرعی طریقہ سے کیسے کریں؟ راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں  سائل کے مرحوم والد کے ترکہ   کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے ترکہ میں سے اس کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد، مرحوم کے ذمہ اگر کوئی قرض ہو تو  اسے مرحوم کے کل  ترکہ میں سے ادا کرنے بعد، مرحوم نے اگر کوئی  جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک  تہائی ترکہ میں سے نافذ کرکےباقی کل منقولہ وغیر منقولہ  ترکہ کو 128 حصوں میں تقسیم کرکے  مرحوم کی بیوہ  کو  16 حصے، مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو 14، 14 حصے کرکے، اور ہر ایک بیٹی کو  7، 7 حصے کرکے دئیے جائیں گے۔

یعنی 6000000 روپے میں   مرحوم کی بیوہ کو 750000 روپے، مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو  656250 روپے اور ہر ایک بیٹی کو 328125 روپے ملیں گے۔

باقی  نقد رقم جو تمام عاقل بالغ ورثاء کی باہمی رضامندی سے خرچ کی گئی ہے تو ورثاء کی رضامندی سے ایسا کرنا جائز تھا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210201336

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں