بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1441ھ- 04 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

جائیداد بیٹے کے نام کرانے سے بیٹا مالک نہیں ہوگا


سوال

میرے  والد نے مرنے سے پہلے ان کی جو زمین شاملات پر مشتمل تھی، میرے نام ہوائی انتقال کرا لیا اور وصیت کی کہ ان میں بہنوں کو نہ دیا جائے۔ لیکن میں شریعت کے مطابق ان کا حصہ دینا چاہتا ہوں،  کیا میں شریعت کے رو سے ایک چوتھائی حصہ رکھ سکتا ہو ں؟

جواب

والد مرحوم کی زمین تمام ورثاء کے درمیان شرعی اعتبار سے تقسیم ہوگی ۔ محض نام کرانے سے آپ مالک نہیں بنے؛ لہٰذا اگر شرعی طور پر آپ کا حصہ ایک چوتھائی نہ بن رہا ہو تو آپ کے لیے اس جائیداد میں سے چوتھائی حصہ رکھنا جائز نہیں ہوگا، تاہم آپ کے حصے کے تعین کے لیے دیگر ورثہ کی تفصیل جاننا ضروری ہے، تفصیل بتاکر جواب معلوم کرسکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109203306

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں