بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1441ھ- 06 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

بیٹے کا اپنے والد مرحوم کا قرض ادا کرنا


سوال

اگر شوہر بغیر حق مہر ادا کیے وفات پا گیا ہے تو کیا اس کا بیٹا اس کے حصہ کا حق مہر ادا کر سکتا ہے؟ کہ میرے والد کے ذمہ یہ کام رہ گیا تھا اس کو میں پورا کر دوں?

جواب

شرعی اعتبار سے اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں بیوی کا مہر ادا نہ کرسکا تو  انتقال کے بعد ورثاء کی ذمہ داری ہے کہ میراث کی تقسیم سے قبل  مرحوم کے ترکے میں سے قرض کی ادائیگی کی ماننداس حق کو بھی ادا کریں، اور اس کے بعد بقیہ ترکہ ورثاء میں تقسیم کیاجائے۔ لہذا اگرمرحوم والد کی میراث موجود ہے تو بیٹے کو چاہیے کہ اس میں سے حقِ مہر کی ادائیگی بھی کردے ،اور بقیہ ترکہ ورثاء میں تقسیم کیاجائے جس میں مرحوم کی بیوہ کا حق میراث بھی ہوگا۔

البتہ اگر والد مرحوم نے ترکہ میں کچھ نہیں چھوڑا، اس صورت میں بیٹا اپنی جانب سے اس حق کو ادا کرنا چاہتاہے تو ادا کرسکتا ہے، اور ان شاء اللہ اس ادائیگی کی وجہ سے وہ اجر کا مستحق بھی ہوگا اور والد مرحوم کا حق بھی اداہوجائے گا۔
الفتاوى الهندية (1 / 303):
"والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لايسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء".
رد المحتار - (7 / 500):
"أقول : لا مانع من كون المراد به سقوط المطالبة عن الميت بالصوم في الآخرة وإن بقي عليه إثم التأخير كما لو كان عليه دين عبد وماطله به حتى مات فأوفاه عنه وصيه أو غيره ويؤيده تعليق الجواز بالمشيئة كما نقرره وكذا قول المصنف كغيره وإن صام أو صلى عنه فإن معناه لايجوز قضاء عما على الميت ، وإلا فلو جعل له ثواب الصوم والصلاة يجوز كما نذكره ، فعلم أن قوله: جاز أي عما على الميت لتحسن المقابلة ( قوله: إن شاء الله ) قبل المشيئة لاترجع للجواز بل للقبول كسائر العبادات وليس كذلك ،فقد جزم محمد رحمه الله في فدية الشيخ الكبير وعلق بالمشيئة فيمن ألحق به كمن أفطر بعذر أو غيره حتى صار فانيا ، وكذا من مات وعليه قضاء رمضان وقد أفطر بعذر إلا أنه فرط في القضاء وإنما علق لأن النص لم يرد بهذا كما قاله الأتقاني ، وكذا علق في فدية الصلاة لذلك ، قال في الفتح والصلاة كالصوم باستحسان المشايخ". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144108200495

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں