بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

بیٹی کا رشتہ کرنے میں تردد ہو رہا ہو تو کیا کرے؟


سوال

میری بیٹی کی عمر 35 سال ہے، اس کا رشتہ میری چچازاد بہن نے اپنے لڑکے کے لیے مانگا تھا، لیکن میرے شوہر نے مجھے ہاتھ جوڑ کر منع کردیا تھا کہ رشتہ وہاں نہیں کرنا، اس کی وجہ یہ ہے کہ میری دو بہنیں ہیں جو گھروں میں لڑائیاں کرواتی ہیں، لوگوں کے گھر برباد کردیتی ہیں، اسی چچازاد بہن کے لڑکے کو انہوں نے ہی طلاق دلوائی تھی، سب ہی ان دونوں سے پناہ مانگتے ہیں، میری یہ بہن چچازاد بہن کی بھابی بھی ہے، اس ہی لیے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ ہماری بیٹی کا بھی گھر خراب نہ کردے۔

میرے شوہر کا اب انتقال ہوگیا ہے، میں اپنی لڑکی کی وجہ سے بہت پریشان ہوں، کل اگر میں بھی نہیں ہوں گی تو میری بیٹی کے ساتھ اس کے بھائی بھابی اچھا سلوک نہیں کریں گے، بس آپ سے یہ معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ اگر میں اپنی بیٹی کی شادی اپنی چچازاد بہن کے گھر کردوں تو کیا میرے شوہر کی روح کو تکلیف تو نہیں ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتہ کے معاملے میں دینداری کو ترجیح دینے کا حکم دیا ہے، اس لیے کہ جس میں دینداری ہوگی، تو وہ اپنی بیوی کے تمام شرعی حقوق ادا کرے گا، اس میں کوتاہی کا مرتکب نہیں ہوگا، نیز شادی بیاہ اسی طرح دیگر معاملات مثلاً کاروبار وغیرہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استخارہ کی ترغیب دی ہے، لہٰذا زیرِ نظر رشتہ کے معاملہ میں سائلہ اہلِ رائے سے مشورہ کرے اور استخارہ بھی کرے، بشرطیکہ لڑکے میں دینداری ہو اور با اخلاق ہو۔

استخارہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہہ دن رات میں کسی بھی وقت بشرطیکہ وہ نفل کی ادائیگی کا مکروہ وقت نہ ہودو رکعت نفل استخارہ کی نیت سے پڑھیں،نیت یہ ہو کہ میرے سامنے یہ معاملہ یا مسئلہ ہے ، اس میں جو راستہ میرے حق میں بہتر ہو ، اللہ تعالی اس کا فیصلہ فرمادیں ۔ سلام پھیر کر نماز کے بعد استخارہ کی مسنون دعا مانگیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین فرمائی ہے، استخارہ کی مسنون دعا:

'' اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ أَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ، وَ أَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ ، فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَ لاَ أَقْدِرُ، وَ تَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ، وَ أَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ اَللّٰهُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ وَ عَاجِلِهٖ وَ اٰجِلِهٖ، فَاقْدِرْهُ لِیْ، وَ یَسِّرْهُ لِیْ، ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْهِ وَ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ شَرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ وَ عَاجِلِهٖ وَ اٰجِلِهٖ، فَاصْرِفْهُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْهُ، وَاقْدِرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ اَرْضِنِیْ بِهٖ.''

دعاکرتے وقت جب”هذا الأمر“پر پہنچے تو اگر عربی جانتی ہے تو اس جگہ اپنی حاجت کا تذکرہ کرے یعنی ”هذا الأمر“کی جگہ اپنے کام کا نام لے، مثلاً:”هذا النکاح“کہے ، اور اگر عربی نہیں جانتی تو ”هذا الأمر“کہہ کر دل میں اپنے اس کام کے بارے میں سوچے جس کے لیے استخارہ کررہا ہے ۔

استخارے کے بعد  جس طرف دل مائل ہو وہ کام کرے، اگر ایک دفعہ میں قلبی اطمینان حاصل نہ ہو تو سات دن تک یہی عمل دہرائے، ان شاء اللہ خیر ہوگی، استخارہ کے لیے کوئی وقت خاص نہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ رات میں سونے سے پہلے جب یکسوئی کا ماحول ہو تو استخارہ کرکے سوجائے، لیکن خواب آنا ضروری نہیں ہے، بلکہ اصل بات قلبی رجحان اور اطمینان ہے، باقی اگر مذکورہ رشتہ دینی اعتبار سے بہتر ہو یعنی لڑکا متدین اور با اخلاق ہو اور استخارہ کے بعد سائلہ کا دل مطمئن ہو، تو رشتہ کرانے کے بعد سائلہ کے شوہر کی روح کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔

مرقات شرح مشکات میں ہے:

"(وعنه) أي: عن أبي هريرة (قال: «قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: إذا خطب إليكم» ) أي: طلب منكم أن تزوجوه امرأة من أولادكم وأقاربكم (‌من ‌ترضون) أي: تستحسنون (دينه) أي: ديانته (وخلقه) أي: معاشرته (فزوجوه) أي: إياها (إن لا تفعلوه) أي: لا تزوجوه (تكن) أي: تقع ( «فتنة في الأرض وفساد عريض» ) أي: ذو عرض أي كثير، لأنكم إن لم تزوجوها إلا من ذي مال أو جاه ربما يبقى أكثر نسائكم بلا أزواج وأكثر رجالكم بلا نساء، فيكثر الافتتان بالزنا، وربما يلحق الأولياء عار فتهيج الفتن والفساد، ويترتب عليه قطع النسب وقلة الصلاح والعفة. قال الطيبي - رحمه الله -: " وفي الحديث دليل لمالك فإنه يقول: لا يراعى في الكفاءة إلا الدين وحده، ومذهب الجمهور أنه يراعى أربعة أشياء: الدين والحرية والنسب والصنعة، فلا تزوج المسلمة من كافر، ولا الصالحة من فاسق، ولا الحرة من عبد، ولا المشهورة النسب من الخامل، ولا بنت تاجر أو من له حرفة طيبة ممن له حرفة خبيثة أو مكروهة، فإن رضيت المرأة أو وليها بغير كفؤ صح النكاح. (رواه الترمذي)."

(كتاب النكاح، ج: 5، ص: 2047، ط: دار الفكر بيروت)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله ومنها ركعتا الاستخارة) عن «جابر بن عبد الله قال: كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يعلمنا الاستخارة في الأمور كلها كما يعلمنا السورة من القرآن يقول إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة، ثم ليقل: اللهم إني أستخيرك بعلمك، وأستقدرك بقدرتك، وأسألك من فضلك العظيم، فإنك تقدر ولا أقدر، وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب. اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري أو قال عاجل أمري وآجله، فاقدره لي ويسره لي ثم بارك لي فيه، وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري أو قال عاجل أمري وآجله فاصرفه عني واصرفني عنه، واقدر لي الخير حيث كان ثم رضني به، قال ويسمي حاجته» رواه الجماعة إلا مسلما شرح المنية... وينبغي أن يكررها سبعا، لما روى ابن السني «يا أنس إذا هممت بأمر فاستخر ربك فيه سبع مرات، ثم انظر إلى الذي سبق إلى قلبك فإن الخير فيه» ولو تعذرت عليه الصلاة استخار بالدعاء اهـ ملخصا."

(كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، ج: 2، ص: 27، ط: دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144401101333

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں