بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 جنوری 2021 ء

دارالافتاء

 

بیٹی کا عشال نام رکھنا


سوال

عشال نام کا مطلب کیا ہے؟ کیا میں اپنی بیٹی کا نام رکھ سکتا ہوں؟

جواب

عَشَّال "عین" پر زبر اور "ش" پر تشدید کے ساتھ  عربی زبان کا لفظ ہے اور اس  کا معنی ہے: "درست اندازہ لگانے والا"۔

مذکورہ تلفظ کے ساتھ یہ نام رکھ  سکتے ہیں، البتہ یہ مذکر صفت ہے۔ نیز یہ نام "عِشَال"  (یعنی عین کے زیر کے ساتھ) عربی میں مستعمل نہیں ہے۔

تاہم بہتر یہ ہے کہ کوئی اور اچھے معنی والا  عربی نام یا صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کوئی نام  منتخب کرکے رکھا جائے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205201253

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں