بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شعبان 1441ھ- 08 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

بیٹے کے مال میں باپ کا تصرف


سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ" باپ نے اپنے بیٹے زید سے کہا کہ آپ کا مال یعنی کمایا ہوا مال آپ کا ہے اور آپ کے بھائیوں کا کمایا ہوا مال آپ کے بھائیوں کا ہے. اب زید مال کما رہا ہے اور اپنے والد کو دیتا ہے. اور والد نے اپنے بیٹے زید کے مال پر زمین خرید کر ان کی والدہ کے نام پر انتقال کیا. تو کیا اس زمین (پراپرٹی)میں ( جو زید کے مال پر خریدی ہوئی ہے) زید کے بھائیوں کا حقِ وراثت ثابت ہے؟ جواب دے کر ممنون فرمائیں!

جواب

باپ کے کہے بغیر بھی  بیٹے زید کا مال اسی کی ملکیت ہے، اب اس نے مال کماکر باپ کو اگر مالک بنا کر اس کا قبضہ دےدیا تھا اور اس سے باپ نے  اس مال سے زمین خریدی تھی تو یہ مال باپ کا ہوگیا، اور اب ان کی وفات کے بعد  مرحوم کے تمام ورثاء کا حق ہے۔ اور اگر اس نے مالک بنا کر نہیں دیا تھا، بلکہ امانت کے طور پر صرف سنبھالنے کے لیے دیا تھا تو اس صورت میں یہ زید ہی کی ملکیت ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107201188

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے