بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیٹے کا نام محمد رکھنے کی نذر ماننا


سوال

اگر کوئی شخص منت مانے کہ اگر اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو اس کا نام محمد رکھوں گا ، پھر جب بیٹا پیدا ہو جائے تو کیا وہ شخص اپنے بچے کا نام ”محمد“ کے علاوہ کوئی اور نام رکھ سکتا ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ نذر صحیح ہونے  کی   شرائط میں سے ایک شرط یہ  بھی ہےکہ جس کام کی نذر مانی جاۓ وہ کام قربت اور  عبادتِ مقصودہ ہو ،جیسے نماز روزہ ،زکاۃ،حج وغیرہ، اسی طرح جس کام کی نذر مانی جاۓ اس کی جنس سے کوئی فرد فرض یا کم از کم واجب ضرورہو،مباح چیزوں کی نذر لازم نہیں ہوتی۔

 صورتِ مسئولہ میں اگر مذكوره شخص نے یہ نذر مانی کہ كے اس كے هاں بيٹا پيدا هوا تو اس كا نام ”محمد“ رکھوں گا تو   یہ نذر منعقد نہیں ہوئی ہے،   لهذابیٹے کی پیدائش کے بعد  بیٹے کا ”محمد“ نام رکھنا لازم نہیں ہے، البتہ ”محمد“ نام اچھا ہے، بیٹے کا یہ نام  رکھنا بہتر ہے ۔محمد کے ساتھ اور جو رکھنا ہے ملا کر رکھ لیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ومن ‌نذر ‌نذرا ‌مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب) أي فرض كما سيصرح به تبعا للبحر والدرر (وهو عبادة مقصودة)... (ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر).

(قوله وهو عبادة مقصودة) ...وفي البدائع: ومن شروطه أن يكون قربة مقصودة فلا يصح النذر بعيادة المريض، وتشييع الجنازة، والوضوء، والاغتسال، ودخول المسجد، ومس المصحف، والأذان، وبناء الرباطات والمساجد وغير ذلك، وإن كانت قربا إلا أنها غير مقصودة."

(كتاب الأيمان، 3/ 735، ط: سعيد)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144507102160

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں