بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1444ھ 29 نومبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بیٹے کی موجودگی میں پوتوں کا ترکہ میں حق


سوال

 اگر دو شادی شدہ صاحبِ اولاد بھائیوں میں سے ایک کا اپنے والد کی زندگی میں انتقال ہو جائے تو اس کی اولاد کو دادا کی وراثت میں سے حصہ ملے گا یا  نہیں؟

جواب

اگر کسی شخص کا انتقال اپنے والد کی زندگی میں ہو جائے اور والد کی دیگر نرینہ اولاد بھی موجود ہو تو والد کے انتقال کی صورت میں صرف اُس کی اپنی اولاد وارث ہو گی، پوتوں کا اپنے دادا کی وراثت میں کوئی حق نہ ہو گا۔

الفتاوى الهندية (6/ 452):

"الأقرب يحجب الأبعد كالابن يحجب أولاد الابن."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200590

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں