بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ذو الحجة 1445ھ 13 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

بیٹے کا والد کے پلاٹ کی قسطیں ادا کرنا


سوال

ہم ایک بہن اور ایک بھائی ہیں دونوں شادی شدہ ہیں والد صاحب حیات ہیں۔والد صاحب نے ایک پلاٹ پانچ سال کی قسطوں پر لیا تھا جس کی قیمت پندرہ لاکھ تھی، اَب تک ہم سوا چھ لاکھ ادا کر چکے ہیں جن میں سے کچھ پیسے والد صاحب نے ادا کیے ہیں اور کچھ میں نے۔ میرے پاس ذاتی پیسے ہیں اور میں ان کو ادا کر کے پلاٹ مکمل خریدنا چاہتا ہوں۔ اس صورت میں والد صاحب کی ادا کردہ رقم کا کیا ہو گا اور اگر مجھے یہ رقم انہیں ادا کرنی ہے تو ادا شدہ رقم کی ادائیگی ہو گی یا پلاٹ کا موجودہ ریٹ لگے گا؟ اور اگر والد صاحب اپنی ادا شدہ رقم مجھے یا ہم دونوں بہن بھائیوں کو دینا چاہیں تو کیا صورت ہو گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد نے مذکورہ پلاٹ قسطوں پر اگر باقاعدہ خریدا ہے، اور پلاٹ مبہم نہیں، پلاٹ کا نمبر متعین ہے، تو ایسی صورت میں پلاٹ والد کی ملکیت میں ہے، باقی زیرِ نظر مسئلہ میں  سائل نے والد کے پلاٹ کی جو قسطیں اپنی ذاتی رقم سے ادا کی ہیں، اگر وہ والد کے تعاون کے طور پر ادا کی ہیں (یعنی اس رقم کی ادائیگی کے وقت والد سے شراکت داری یا حصہ داری کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی) تو ایسی صورت میں مکمل پلاٹ کے مالک والد ہیں، سائل کا اس پلاٹ میں کوئی حصہ نہیں، اور جو رقم سائل نے ادا کی وہ والد پر احسان شمار ہو گا۔

اب اگر سائل یہ پلاٹ اپنے والد سے خریدنا چاہتا ہے تو اس پلاٹ پر جو قرضہ ہے وہ منہا کر کے موجودہ ویلیو کے حساب سے اس پلاٹ کو خرید سکتا ہے، اگر پلاٹ پندرہ لاکھ کا خریدا تھا، اور سوا چھ لاکھ اس کی قسطیں ادا کی جا چکی ہیں، آٹھ لاکھ پچھتر ہزار روپے کی ادائیگی باقی ہے، اور مثلاً اب پلاٹ کی مالیت تیس لاکھ روپے ہے تو آٹھ لاکھ پچھتر ہزار روپے واجب الاداء اقساط منہا کر کے 2125000 روپے کا خرید سکتا ہے۔

اگر سائل نے اقساط کی ادائیگی بطورِ قرض کی تھی تو سائل اپنے والد سے ادا شدہ رقم کے مطالبہ کرنے کا حق رکھتا ہے، باقی پلاٹ والد کی ملکیت شمار ہو گا اور خریداری کا طریقہ وہی ہو گا جو گزشتہ صورت میں درج ہوا۔

باقی اگر سائل کے والد اپنی رقم اپنے بیٹے اور بیٹی میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو دونوں کو برابر سرابر دے سکتے ہیں، بلا وجہ کسی کو کم دینا اور کسی کو زیادہ دینا درست نہیں ہو گا، تاہم کسی ضرورت کی بنیاد پر کسی ایک کو زیادہ دے دیا جائے تو اس کی گنجائش ہو گی۔

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ کی  روایت میں ہے:

"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلامًا، فقال: «أكلّ ولدك نحلت مثله؟» قال: لا، قال: «فأرجعه». وفي رواية ...... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»".

(مشکوٰۃ  المصابیح، 1/261، باب العطایا، ط؛ قدیمی)

ترجمہ: حضرت نعمان ابن بشیرؓ  کے بارے  منقول ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر ؓ) انہیں  رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے  اپنے اس بیٹے کو ایک غلام عطا کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا :  ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو، ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ……  آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔

(مظاہر حق، 3/193، باب العطایا، ط؛ دارالاشاعت)

         فتاوی شامی میں ہے: 

"وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة؛ لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى".

 (5/696، کتاب الھبۃ، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311101723

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں