بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 صفر 1443ھ 18 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

بیٹے جو کہ ملازم ہیں، ان کو کاروبار میں ملازمت کے ساتھ شریک کرنا


سوال

میرے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے،  سات سال پہلے میں نے اپنے دو بڑے بیٹوں کو کاروبار میں شامل کیا اور ان کی مناسب سی تنخواہ بھی مقرر کی، اب تیسرا بیٹا بھی اسی سال کام میں شامل ہوگیا ہے۔  اب  ماشاءاللہ تقریبًا سارا  کاروبار اللہ پاک کے بعد بچے دیکھ رہے ہیں اور میں اوپر سے سارے معاملات کی نگرانی کرتا ہوں اور تنخواہوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔  تنخواہ کی مد میں ان کی جو رقم بنتی ہے ان میں سے یہ تینوں اپنی والدہ کو گھر خرچے کی مد  میں ادا کرتے ہیں اور اپنے بیوی بچوں پر بھی خرچ کرتے ہیں اور باقی تنخواہ کی جتنی رقم بچتی ہے وہ کاروبار میں گھوم رہی ہے، یعنی میرے ذمے بچوں کا قرضہ ہے جس کا میں ان کو کوئی منافع نہیں دیتا اور اس کے علاوہ  میں نے بیٹی کو کچھ رقم دی ہے اور اتنی ہی رقم کے مساوی میں نے اپنے تینوں بیٹوں کے اکاؤنٹ میں جمع کر دی ہے۔  اب میری یہ خواہش ہے کہ بیٹوں کی جو رقمیں میرے اوپر قرض کی شکل میں ہیں  اسی پیسے کو اپنے کیپیٹل میں شامل کر لوں اور جو نفع نقصان ہو،  وہ ان کی انویسمنٹ کے حساب سے ان کو ملتا رہے اور جو تنخواہیں لے رہے ہیں، وہ لیتے رہیں۔  کیا ایک کمپنی میں ملازمت اور انویسمنٹ دونوں ہو سکتی ہیں؟ اس کے علاوہ اس پروسس میں بیٹی کی کسی قسم کی حق تلفی تو نہیں ہوگی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں جو بیٹے آپ کے کاروبار میں اجیر  (ملازم) ہیں، ان کو شریک بنانے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں :

1 : اپنے بیٹوں کو ان کے سرمایہ کے بقدر پورے کاروبار میں شریک بنا دیں۔ اس صورت میں چوں کہ کاروبار کی ہر چیز میں بیٹوں کی اپنے حصے کے بقدر ملکیت ثابت ہوجائے گی، لہذا ایسی شراکت کے بعد بیٹوں کا کاروبار میں اجیر (ملازم) بننا جائز نہیں ہوگا؛ کیوں کہ اپنی ملکیت کی چیز کے لیے عمل کرنے والا اپنے عمل کی اجرت نہیں لے سکتا، یعنی شریک بننے کے بعد ان کے لیے تنخواہ لینا جائز نہیں ہوگا، لیکن چوں کہ بیٹے محنت بھی کر رہے ہیں تو آپ یہ کرسکتے ہیں کہ نفع میں سے ان کا حصہ کچھ زیادہ رکھ لیں، مثلًا تینوں بیٹوں کا سرمایہ ملاکر 60% بنتا ہے، تو آپ نفع کا 75% بیٹوں کے لیے مقرر کرلیں،  البتہ خدانخواستہ اگر نقصان ہوگیا تو تمام پارٹنرز اپنے سرمائے کے بقدر نقصان برداشت کریں گے۔

2 : اپنے ہر بیٹے کو کاروبار کے اس شعبے میں مالک بنائیں جس شعبے میں وہ عمل نہیں کرتا اور  اس کی ملازمت کا اس شعبے سے تعلق نہ ہو،  مثلاً اگر کاروبار میں مختلف اشیاء کی تجارت ہوتی ہے تو بعض اشیاء کا مالک ایک بیٹے کو بنا دیجیے  اور دیگر کا مالک دوسرے کو، پھر جو بیٹا جس چیز کا مالک ہے، اس کی ذمہ داری اس شعبے میں نہیں، بلکہ دوسرے بیٹے کے شعبے میں ہو۔ تاہم یہ بھی واضح ہو کہ دوسری صورت اسی وقت ممکن ہے کہ جب کاروبار میں مختلف شعبہ جات ہوں یا مختلف چیزوں کا الگ الگ حساب اور الگ الگ انتظامات رکھنا ممکن ہو۔

اوپر  ذکر کی گئی جواز کی صورت کو اختیار کرنے میں بیٹی کی حق تلفی لازم نہیں آئے گی۔

الهداية في شرح بداية المبتدي (3 / 240):

"إذا استأجره ليحمل نصف طعامه بالنصف الآخر حيث لايجب له الأجر؛ لأن المستأجر ملك الأجير في الحال بالتعجيل فصار مشتركًا بينهما. ومن استأجر رجلًا لحمل طعام مشترك بينهما لايجب الأجر؛ لأنّ ما من جزء يحمله إلا وهو عامل لنفسه فيه فلايتحقق تسليم المعقود عليه."

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5 / 132):

"(ولو استأجره لحمل طعام بينهما فلا أجر له كراهن استأجر الرهن من المرتهن) أي لو استأجر أحد الشريكين صاحبه لحمل طعام مشترك بينهما لايستحق الأجر المسمى ولا أجر المثل، وقال الشافعي - رحمه الله - تجوز الإجارة وله المسمى؛ لأن الإجارة بيع المنافع فتجوز في الشائع كبيع الأعيان خصوصًا على أصله؛ لأن المنفعة كالعين فصار كما إذا استأجر دارا مشتركة بينه وبين غيره ليضع فيها الطعام أو عبدا مشتركا ليخيط له الثياب ولنا أن العقد ورد على ما لايمكن تسليمه؛ لأنّ المعقود عليه حمل النصف شائعًا و ذلك غير متصور؛ لأنّ الحمل فعل حسي لايتصور وجوده في الشائع، و لهذا يحرم وطء الجارية المشتركة وضر بها؛ لأنهما فعلان حسيان لايتصور وجودهما في الشائع، و لو تصور لما حرم بخلاف البيع؛ لأنه تصرف شرعي فيحتمل وروده على الشائع وإذا لم ينعقد لايجب الأجر أصلًا و لأنه ما من جزء يحمله له و إلا و هو شريك فيه فيكون عاملًا لنفسه فلايتحقق تسليم المعقود عليه؛ لأن كونه عاملا لنفسه يمنع تسليم عمله إلى غيره وبدون التسليم لايجب الأجر."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209202014

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں