بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

بیرون ملک مقیم کا دوسرے ملک میں قربانی کرنا


سوال

كیا امریکہ میں رہنے والے اگر پاکستان میں قربانی کروائیں تو درست ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ جس آدمی پر قربانی واجب ہے ،اس کے لیے کسی دوسرے ملک  میں کسی شخص کو رقم بھیج کرقربانی کرنے کے لیے کہنا شرعاً درست ہے ،البتہ  اتنا ضروری ہے کہ جس دن قربانی کی جائے ،وہ دن دونوں ملکوں  میں قربانی کا مشترکہ دن ہو ۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"لأن الذبح هو القربة فيعتبر مكان فعلها لا مكان المفعول عنه.وإن كان الرجل في مصر وأهله في مصر آخر فكتب إليهم أن يضحوا عنه روي عن أبي يوسف أنه اعتبر مكان الذبيحة فقال: ينبغي لهم أن لا يضحوا عنه حتى يصلي الإمام الذي فيه أهله، وإن ضحوا عنه قبل أن يصلي لم يجزه، وهو قول محمد - عليه الرحمة."

(کتاب التضحیة،فصل في شرائط جواز إقامة الواجب في الأضحية،ج:5،ص:74،ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144412100495

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں