بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ذو الحجة 1443ھ 04 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

بیرون ملک میں حرام اشیاء ڈیلور کرنے کا حکم


سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی بیرون ممالک میں food delivery کا کام کرتا ہو مثلًا اوبر فوڈ یا ڈیشر وغیرہ کمپنی کا رائیڈر ہو اور لوگوں کو کھانا ڈلیور کرتا ہو تو بعض اوقات کسی کو حرام کھانا ڈلیور بھی کرنا پڑتا ہے تو کیا یہ نوکری جائز ہوگی؟

جواب

بصورتِ مسئولہ کمپنی کے رائیڈر کا لوگوں کو کھانا ڈیلور کرنا جائز ہے، تاہم ایک مسلمان کے لیے حرام چیز مثلاً شراب ،خنزیر کے گوشت سے بنی اشیاءوغیرہ ڈیلیور کرنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ مسلمان کے  لیے  شریعتِ مطہرہ میں جو  چیز حرام ہے، اس حرام چیز کا خریدنا یا فروخت کرنا یا کسی کو فراہم کرنا بھی حرام ہے۔

فتاوی شامی (الدر المختار ورد المحتار) میں ہے:

"(و لايجوز بيعها) لحديث مسلم: «إن الذي حرم شربها حرم بيعها».

(قوله: في حق المسلم) أما الذمي فهي متقومة في حقه كالخنزير حتى صح بيعه لهما، ولو أتلفهما له غير الإمام أو مأموره ضمن قيمتها له كما مر في آخر الغصب.

(قوله: لا ماليتها في الأصح) لأن المال ما يميل إليه الطبع ويجري فيه البذل والمنع، فتكون مالًا لكنها غير متقومة لما قلنا أتقاني."

(کتاب الأشربة، ج:6، ص:449، ط:ایج ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144301200061

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں