بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بے روزگار غریب پر صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہے؟


سوال

میں بیروزگار ہوں اور میں ماں اور بھائی کے سہارے چل رہا ہوں ان کی کمائی کھا رہاہوں کیا مجھ پر بھی اپنا اور اپنی بیوی بچوں کا صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہے؟

جواب

جو شخص اتنا مال دار  ہو کہ ا س پر زکاۃ واجب ہو، یا اس پر زکاۃ واجب نہیں لیکن قرض اور ضروری اسباب اور استعمال کی اشیاء سے زائد اتنی قیمت کا مال یا اسباب اس کے پاس موجود ہے جس کی مالیت ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت تک پہنچ جائے تو ایسے شخص پر صدقہ فطر واجب ہے، اور یہ سامان چاہے تجارت کا ہو یا نہ ہو، چاہے اس پر سال گزرا ہو یا نہ ہو۔یہ شخص اپنی اور اپنی نابالغ اولاد کی جانب سے صدقہ فطر ادا کرے گا۔اور جس شخص کے پاس اتنا مال یا سامان موجود نہ ہو تو اس پر صدقہ فطر واجب نہیں ہوگالہذا صورت مسئولہ میں سائل اگر واقعۃ بے روزگار ہے اور غریب ہے  اور تفصیل کے مطابق صاحب نصاب نہیں ہے تو سائل پر اپنا اور اپنے بچوں کو صدقہ فطر ادا کرنا واجب نہیں ہے۔

صحیح بخاری میں ہے:

"وقال النبي صلى الله عليه وسلم: «لا صدقة إلا عن ظهر غنى»."

(کتاب الوصایا , ‌‌باب تأويل قول الله تعالى: {من بعد وصية يوصي بها أو دين} [النساء: ١١] جلد 4 ص: 5 ط: دارطوق النجاۃ)

مسند احمد بن حنبل میں ہے:

"عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ‌لا ‌صدقة إلا عن ظهر غنى، واليد العليا خير من اليد السفلى، وابدأ بمن تعول."

(مسند ابی هریرۃ رضي اللہ عنه جلد 12 ص: 69 ط: مؤسسة الرسالة)

فقط و اللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144409101419

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں