بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

بینک سے سود پر مکان خریدنا/ مشینی ذبیحہ کا حکم/ خلع کا طریقہ/ میت کے لیے کفن اور تابوت کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ شرع متین مندرجہ ذیل مسئلے کے بارے میں:

1:بینکوں کے ذریعے رہن رکھواکر گھر خریدنے پر سود ادا کرنا حلال ہے یا حرام ہے؟

2: پرندوں، جانوروں کو مشینوں سے ذبح کرنا حلال ہے یا حرام ہے؟

3: خلع  کا طریقہ کار کیا ہے، اس کی ضرورت کب پیش آتی ہے؟

4: میّت کی تدفین کفن یا تابوت میں ہونا ضروری ہے یا نہیں ؟

5: اگر کسی غیرمسلم ملک کا کوئی قانون قرآن وحدیث اور شریعت کے خلاف ہو، ایک مسلمان باشندہ کو بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے یا نہیں؟

جواب

1:سود ادا کرکے بینک کے ذریعے مکان خریدنا ایک ناجائز اور حرام عمل ہے، کیوں کہ سود اسلام میں قطعی طور پر حرام ہے، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری، حرص و طمع، خود غرضی، شقاوت و سنگ دلی، مفاد پرستی، جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں، بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا ذریعہ بھی ہے، اسی وجہ سے قرآنِ مجید میں سود سے منع کیاگیا ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ"

ترجمہ: اے ایمان والو سود مت کھاؤ (یعنی مت لو اصل سے) کئی حصے زائد (کرکے) اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو امید ہے کہ تم کامیاب ہو۔

(سورۃ آلِ عمران، رقم الآیۃ:130، ترجمہ:بیان القرآن)  

نیز شریعتِ مطہرہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے، بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دینے کے ساتھ مختلف وعیدوں کو بھی ذکر کیا، جیسے کہ قرآنِ مجید میں ہے:

"الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُون"

 ترجمہ:اور جو لوگ سود کھاتے ہیں نہیں کھڑے ہوں گے (قیامت میں قبروں سے) مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے ایسا شحص جس کو شیطان خبطی بنا دے لپٹ کر (یعنی حیران و مدہوش)، یہ سزا اس لیے ہوگی کہ ان لوگوں نے کہا تھا کہ بیع بھی تو مثل سود کے ہے، حال آں کہ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے۔ پھر جس شخص کو اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت پہنچی اور وہ باز آگیا تو جو کچھ پہلے (لینا) ہوچکا ہے وہ اسی کا رہا اور (باطنی) معاملہ اس کا خدا کے حوالہ رہا اور جو شخص پھر عود کرے تو یہ لوگ دوزخ میں جاویں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

(سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ:275، ترجمہ:بیان القرآن)

آپﷺ نے سود کو ہلاکت خیز عمل قرار دیا ہے، جیسے کہ حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «اجتنبوا السبع الموبقات»، قالوا: يا رسول الله وما هن؟ قال: «الشرك بالله، والسحر، وقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق، وأكل الربا، وأكل مال اليتيم، والتولي يوم الزحف، وقذف المحصنات المؤمنات الغافلات»"

(صحیح البخاری، کتاب الوصایا، باب قول اللہ تعالی ان الذین یاکلون اموال الیتامی، رقم الحدیث:2766، ج:2، ص:242، ط:المکتب الاسلامی)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: سات ہلاک کرنے والی باتوں سے دور رہو۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ وہ کون سی باتیں ہیں؟ فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جادو کرنا اور اس جان کو ناحق مارنا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اور سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا اور جہاد سے فرار (یعنی بھاگنا) اور پاک دامن بھولی بھالی مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔

سود خور سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے، حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أتيت ليلة أسري بي على قوم بطونهم كالبيوت، فيها الحيات ترى من خارج بطونهم، فقلت: من هؤلاء يا جبرائيل؟ قال: هؤلاء أكلة الربا "

(سنن ابن ماجہ، کتاب التجارۃ، باب التغلیظ فی الربا، رقم الحدیث:2273، ج:2، ص:763، ط:داراحیاءالکتب العربیۃ)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جس شب مجھے (معراج میں) سیر کرائی گئی، میں ایک جماعت کے پاس سے گزرا جس کے پیٹ کمروں کے مانند تھے، ان میں بہت سے سانپ پیٹوں کے باہر سے دکھائی دے رہے تھے، میں نے کہا: جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟  کہنے لگے کہ سود خور ہیں۔"

لہذا بینک سے سودی معاملے کے ذریعے مکان خریدنا حرام ہونے کی وجہ سے سخت گناہ ہے۔

2:کسی بھی جانور کو ذبح  کرنے کی شرائط میں سے یہ ہے کہ ذبح کرنے والاعاقل ، بالغ ہو، اور مسلمان یا  اہلِ کتاب میں سے یہودی یا عیسائی ہو (بشرط یہ ہے کہ وہ  اپنے مذہب کے اصول، پیغمبر اور کتبِ سماویہ کو مانتاہو،  دہریہ نہ ہو) اور وہ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لے کر ہاتھ سے  ذبح کرے، اور ذبحِ اختیاری میں یہ بھی ضروری ہے کہ گلے کی چاروں رگیں (کھانے کی نالی، سانس کی نالی اور خون کی نالیوں) یا ان میں سے اکثر کٹ جائیں، اور  ذبح کرنے والا خود جانور کو  تیز دھار آلہ سے ذبح کرے، (اگر آلہ کی تیزی کے بجائے اس کے دباؤ سے  دم گھٹنے کی وجہ سے جانور مرجائے تو وہ مردار ہوگا)۔

صورتِ مسئولہ میں مروجہ مشینی ذبیحہ میں یہ سب شرائط نہیں پائی جاتیں، لہذا مشین کے ذریعہ ذبح کرنا خلافِ شرع ہے، اور مشینی ذبیحہ حلال نہیں ہے، البتہ اگر مشین کا کام صرف اس حد تک ہو کہ وہ جانور کو قابو کرلے، اور اس کے عمل سے جانور کی موت واقع نہ ہو، اور   مشین کے  چھری پھیرنے کے بجائے  وہاں مسلمان یا متدین اہلِ کتاب کھڑے ہوجائیں اور وہ  اپنے سامنے گزرتے ہوئے جانوروں کو باری باری ہر ایک پر تسمیہ پڑھتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے تیز دھار آلے کی مدد سے ذبح کریں تو اس صورت میں ذبیحہ حلال ہوگا۔(1)

3:اگر زوجین میں نبھاؤ کی کوئی شکل نہ رہے اور شوہر بلاعوض طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو ، تو عورت کے لیے یہ راستہ تجویز کیا گیا ہے کہ وہ خلع کی پیش کش کرکے شوہر سے خلع حاصل کرکے  اپنے کو آزاد کرالے ۔ اِسی بات کو قرآنِ کریم کی اِس آیت میں اِرشاد فرمایا گیا : 

"وَلاَ یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَأْخُذُوْا مِمَّا اٰتَیْتُمُوْہُنَّ شَیْئًا اِلاَّ اَنْ یَّخَافَا اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ  فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِه  تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلاَ تَعْتَدُوْها  وَمَنْ یَتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ فَاُولٰٓـئِکَ هُمُ الظَّالِمُوْنَ "
ترجمہ: اور تم کو یہ روا نہیں ہے کہ عورتوں کو دیا ہوا کچھ بھی مال اُن سے واپس لو ، مگر یہ کہ جب میاں بیوی اِس بات سے ڈریں کہ اللہ کے اَحکام پر قائم نہ رہ سکیں گے ۔ پس اگر تم لوگ اِس بات سے ڈرو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہیں گے تو اُن دونوں پر کچھ گناہ نہیں ہے اِس میں کہ عورت بدلہ دے کر چھوٹ جائے ، یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں ، سو اُن سے آگے نہ بڑھو ، اور جو کوئی اللہ کی حدود سے آگے بڑھے گا سو وہی لوگ ظالم ہیں ۔ 

(سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ:229، ترجمہ:بیان القرآن) 

تاہم یہ بات بھی واضح رہے کہ شرعاً خلع صحیح ہونے کے لیے شوہر کا اسے قبول کرنا ضروری ہے،  اور خلع طلاقِ بائن کے حکم میں ہے؛ اس لیے  خلع واقع ہونے کے بعد   عدت گزارنا ضروری ہوگا، جو حمل نہ ہونے کی صورت میں تین ماہواریاں ہوگی۔(2)

4:میّت کو غسل کے بعد کفن پہناناعام مسلمانوں پر فرضِ کفایہ ہے۔

باقی تابوت کا حکم یہ ہے کہ میّت کو دفن کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ میّت کو کفن  كے  ساتھ قبر ميں لٹادیاجائے،بغیر کسی عذر کے تابوت میں دفنانا مکروہِ تحریمی ہے،تاہم اگر زمین نرم ہے، یااس میں نمی ہے اور قبر گرنے کا اندیشہ ہے يا اور كوئي شرعي عذر هو  تو ایسی حالت میں تابوت میں رکھ کر دفن کرنے کی گنجائش ہے۔

5: قرآن وحدیث سے متصادم کسی بھی بات کی کسی کی بھی پیروی کرنا جائز نہیں ہے، باقی سوال میں قرآن وحدیث سے متصام قانون کی وضاحت نہیں ہے،اس وجہ سے اس قانون کا حکم نہیں بتایاجاسکتا۔(5)

(1):فتح القدیر للکمال بن الہمام میں ہے:

"قال (والعروق التي تقطع في الذكاة أربعة: الحلقوم، والمريء، والودجان) لقوله عليه الصلاة والسلام: «أفر الأوداج بما شئت» وهي اسم جمع وأقله الثلاث فيتناول المريء والودجين، وهو حجة على الشافعي في الاكتفاء بالحلقوم والمريء، إلا أنه لا يمكن قطع هذه الثلاثة إلا بقطع الحلقوم فيثبت قطع الحلقوم باقتضائه، وبظاهر ما ذكرنا يحتج مالك ولا يجوز الأكثر منها بل يشترط قطع جميعها (وعندنا إن قطعها حل الأكل، وإن قطع أكثرها فكذلك عند أبي حنيفة) وقالا: لا بد من قطع الحلقوم والمريء وأحد الودجين. قال - رضي الله عنه -: هكذا ذكر القدوري الاختلاف في مختصره. والمشهور في كتب مشايخنا - رحمهم الله - أن هذا قول أبي يوسف وحده. وقال في الجامع الصغير: إن قطع نصف الحلقوم ونصف الأوداج لم يؤكل. وإن قطع أكثر الأوداج والحلقوم قبل أن يموت أكل.

(قوله: وهي اسم جمع وأقله الثلاث فيتناول المريء والودجين وهو حجة على الشافعي في الاكتفاء بالحلقوم والمريء) قال في العناية: احتج الشافعي بأنه جمع الأوداج وما ثمة إلا الودجان، فدل على أن المقصود بها ما يحصل به زهوق الروح وهو بقطع الحلقوم والمريء لأن الحيوان لا يعيش بعد قطعهما أقول: يرد على هذا الاحتجاج أنه لو كان المقصود به مجرد ما يحصل به زهوق الروح لكفى قطع واحد من الحلقوم والمريء، إذ الحيوان لا يعيش بعد قطع أحدهما أيضا كما لا يخفى.

وقد أفصح عنه المصنف في تقرير دليل أبي حنيفة فيما بعد حيث قال: لأنه لا يحيا بعد قطع مجرى النفس أو الطعام، ومع أن الشافعي لم يقل بكفاية قطع أحدهما بل شرط قطعهما معا، وقال في العناية بعد ذكر الاحتجاج المزبور: وهو ضعيف لفظا ومعنى، أما اللفظ فلأن الأوداج لا دلالة لها على الحلقوم والمريء أصلا، وأما معنى فلأن المقصود إسالة الدم النجس، وهو إنما يحصل بقطع مجراه انتهى. أقول: ما ذكره في وجه ضعفه لفظا ليس بسديد، إذ قد ذكر في الاحتجاج المزبور وجه دلالة الأوداج على الحلقوم والمريء بأنه جمع الأوداج، وما ثمة إلا الودجان، فدل على أن المقصود بها ما يحصل به زهوق الروح وهو بقطع الحلقوم والمريء فلا معنى بعد ذلك لمجرد نفي دلالتهما عليهما 

(کتاب الذبائح، کیفیة الذبح، ج:9، ص:494، ط:دارالفکر)

(2):فتاوی عالمگیری میں ہے:

"إذا تشاقّ الزوجان و خافا أن لايقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعهابه، فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة، ولزمها المال."

(كتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع، ج:1، ص:519، ط:مکتبۃ رشیدیۃ)

(3): فتاویٰ شامی (الدر المختار ورد المحتار) میں ہے:

"(قوله: ويسن في الكفن إلخ) أصل التكفين فرض كفاية، وكونه على هذا الشكل مسنون شرنبلالية".

(کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ الجنائز، مطلب فی دفن المیّت، ج:2، ص:202، ط:ایج ایم سعید)

(4): فتاویٰ شامی (الدر المختار ورد المحتار) میں ہے:

"(ويلحد ولا يشق) إلا في أرض رخوة (ولا) يجوز أن (يوضع فيه مضربة) وما روي عن علي فغير مشهور لا يؤخذ به ظهيرية (ولا بأس باتخاذ تابوت)ولو من حجر أو حديد (له عند الحاجة) كرخاوة الأرض (و) يسن أن (يفرش فيه التراب. 

(قوله: إلا في أرض رخوة) فيخير بين الشق واتخاذ تابوت ط عن الدر المنتقى، ومثله في النهر. ومقتضى المقابلة أنه يلحد ويوضع التابوت في اللحد لأن العدول إلى الشق لخوف انهيار اللحد كما صرح به في الفتح، فإذا وضع التابوت في اللحد أمن انهياره على الميت، فلو لم يكن حفر اللحد تعين الشق، ولم يحتج إلى التابوت، إلا إن كانت الأرض ندية يسرع فيها بلى الميت قال في الحلية عن الغاية: ويكون التابوت من رأس المال إذا كانت الأرض رخوة أو ندية مع كون التابوت في غيرها مكروها في قول العلماء قاطبة. اهـ. وقد يقال: يوضع التابوت في الشق إذا لم يكن فوقه بناء لئلا يرمس الميت في التراب، أما إذا كان له سقف أو بناء معقود فوقه كقبور بلادنا ولم تكن الأرض ندية ولم يلحد فيكره التابوت (قوله: ولا يجوز إلخ) أي يكره ذلك. قال في الحلية: ويكره أن يوضع تحت الميت في القبر مضربة أو مخدة أو حصير أو نحو ذلك اهـ ولعل وجهه أنه إتلاف مال بلا ضرورة، فالكراهة تحريمية، ولذا عبر بلا يجوز (قوله: وما روي عن علي) يعني من فعل ذلك نهر.

ثم إن الشارح تبع في ذلك المصنف في منحه. والذي وجدته في الظهيرية عن عائشة، وكذا عزاه إلى الظهيرية في البحر والنهر قال في شرح المنية: وما روي «أنه جعل في قبره - عليه الصلاة والسلام - قطيفة» ، قيل لأن المدينة سبخة، وقيل إن العباس وعليا تنازعاها فبسطها شقران تحته لقطع التنازع، وقيل «كان - عليه الصلاة والسلام - يلبسها ويفترشها، فقال شقران: والله لا يلبسك أحد بعده أبدا فألقاها في القبر» (قوله فغير مشهور) أي غير ثابت عنه، أو المراد أنه لم يشتهر عنه فعله بين الصحابة ليكون إجماعا منهم، بل ثبت عن غيره خلافه. ففي شرح المنية: وكره ابن عباس أن يلقى تحت الميت شيء، ورواه الترمذي. وعن أبي موسى «لا تجعلوا بيني وبين الأرض شيئا» . اهـ. (قوله: ولا بأس باتخاذ تابوت إلخ) أي يرخص ذلك عند الحاجة، وإلا كره كما قدمناه آنفا.

قال في الحلية: نقل غير واحد عن الإمام ابن الفضل أنه جوزه في أراضيهم لرخاوتها: وقال: لكن ينبغي أن يفرش فيه التراب، وتطين الطبقة العليا مما يلي الميت، ويجعل اللبن الخفيف على يمين الميت ويساره ليصير بمنزلة اللحد، والمراد بقوله ينبغي يسن كما أفصح به فخر الإسلام وغيره، بل في الينابيع: والسنة أن يفرش في القبر التراب، ثم لم يتعقبوا الرخصة في اتخاذه من حديد بشيء، ولا شك في كراهته كما هو ظاهر الوجه اهـ أي لأنه لا يعمل إلا بالنار فيكون كالآجر المطبوخ بها كما يأتي (قوله له) أي للميت كما في البحر أو للرجل، ومفهومه أنه لا بأس للمرأة مطلقا، وبه صرح في شرح المنية فقال: وفي المحيط: واستحسن مشايخنا اتخاذ التابوت للنساء، يعني ولو لم تكن الأرض رخوة فإنه أقرب إلى الستر والتحرز عن مسها عند الوضع في القبر. اهـ. (قوله كرخاوة الأرض) أي وكونها ندية، فيوضع في اللحد أو في الشق إن كانت ندية أو لم يكن للشق سقف كما قدمناه (قوله أن يفرش فيه) أي في القبر أو في اللحد كما بيناه".

(کتاب الصلوۃ، باب الجنائز، مطلب فی دفن المیّت، ج:2، ص:234، ط:ایج ایم سعید)

(5): مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"(وعن علي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا طاعة) أي لأحد كما في رواية الجامع الصغير أي من الإمام وغيره كالوالد والشيخ (في معصية) وفي رواية الجامع: في معصية الله (إنما الطاعة في المعروف) أي ما لا ينكره الشرع (متفق عليه) ورواه أبو داود وابن ماجه".

(کتاب الامارۃ والقضاء، ج:6، ص:2393، ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144305100373

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں