بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1445ھ 26 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

بینک کے قرضہ کا حکم


سوال

ایک آدمی نے بینک کا قرضہ دینا تھا، اس نے ادا کردیا، اب سود جو بینک کااس کے  ذمےہے،وہ  ادا کرے یا نہ کرے ؟سود بہت زیادہ ہے اگر ادا نہ کرےتو جیل بھی جا سکتا ہےاور  جرمانہ بھی ہوسکتا ہےاور  سود بھی مزید بڑھے گا ،اب وہ کیا کرے؟

جواب

واضح رہے کہ  سود لینا اور سود دینا دونوں قرآن و  حدیث کی قطعی نصوص سے حرام ہیں، حدیثِ  مبارک میں  سودی لین دین کرنے والوں پر لعنت کی  گئی ہے، اور بینک  سے   ملنے والا قرض سراسر سود  پر مشتمل ہوتا ہےاور  بینک سے قرض لینا سودی معاملہ ہے،  اور سودی قرض لینا جائز نہیں،لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کا بینک سے  قرض کا معاہدہ کرنا اور سود کی بنیاد پر قرضہ لینا جائز نہیں تھا،اب سود  ادا کرنے اورنہ کرنے کے بارے میں سوال کرنااورسود نہ کرنے پر جیل جانے کا معاملہ یہ سب سودی قرض لیتے وقت سوچناچاہیے تھایا اس وقت دارالافتاء سے رجوع کرناچاہیے تھا،اب مذکورہ شخص  پر جو مصیبت آئی ہے اس کا خود ذمہ دار ہے، اس سے چھٹکارے کی جو صورت ممکن ہووہ اختیار کرے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

"﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا الله َ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَرَسُوْلِه وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ أَمْوَالِكُمْ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ وَإِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَة إِلٰى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْر لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾." [البقرة ]

ترجمہ:" اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایاہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگرتم نہ کرو گے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے۔ اور اگر تم توبہ کرلوگے تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر ظلم کرنے پائے گا، اور اگر تنگ دست ہو تو مہلت دینے کا حکم ہے آسودگی تک اور یہ کہ معاف ہی کردو  زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم کو خبر ہو۔ "(بیان القرآن ) 

صحیح مسلم میں ہے:

"عن جابر، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا، وموكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء."

( كتاب المساقاة، باب لعن آكل الربا ومؤكله، ٣ / ١٢١٩، رقم الحديث: ١٥٩٨، ط: دار إحياء التراث العربي ببيروت)

ترجمہ:"حضرت جابر رضی اللہ عنہ  روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملہ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اور ارشاد فرمایا: یہ سب (سود کے گناہ میں) برابر ہیں۔"

اعلاء السنن میں ہے:

"وکل قرض شرط فیه الزیادۃ فهو حرام بلا خلاف،قال ابن المنذر:أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادۃً أو هدیة، فأسلف علی ذلک أن أخذ الزیادۃ علی ذلک ربا،قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم:کل قرض جر منفعة فهوربا."

(کتاب الحوالة،باب کل قرض جر منفعة فهو ربا،ج:14ص:513ط: ادارۃ القرآن کراتشی)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144404101364

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں