بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

بیماری سے متاثرہ جانور کی قربانی کا حکم


سوال

لمپی سکن بیماری جس جانور کو لگی ہو اور بعد میں ٹھیک ہوگئی ہو صرف دانوں کے نشانات ظاہر ہوں ،تو اس صورت میں اس جانور کی قربانی کا کیا حکم ہوگا ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  اگر خریدے جانے کے وقت    ابتداءً جانور بالکل تندرست اور صحیح سالم تھا، لیکن  بعد میں یہ بیماری ظاہر ہوگئی  تو  اگر اِس بیماری کی وجہ سے صرف کھال کا بیرونی حصہ ہی متاثر ہوا ہو،اور  بیماری کا اثر اندر گوشت تک نہیں پہنچا ہو، تو ایسی صورت میں اس جانور کی قربانی جائز ہے،چاہے دانوں  وغیرہ کے اثرات جانور کی جلد پر  باقی رہیں یا نہیں، لیکن اگر  بیماری جسم کے اندر بھی پھیل گئی ہو، اور اس کااثر گوشت  تک پہنچ گیا ہوتو ایسی صورت میں  اس  جانور کی قربانی جائز نہیں ہوگی، ایسی صورت میں  صاحبِ استطاعت شخص  پر اس جانور کی جگہ دوسرا جانور قربان کرنا ضروری ہوگا،اور اگر استطاعت نہ ہو تو پھر اسی جانور کو ذبح کرنا بھی کافی ہوجائے گا۔

فتح القدیر میں ہے:

"ويجوز ان يضحي بالجرباء ‌إن ‌كانت ‌سمينة ‌جاز لأن الجرب في الجلد ولا نقصان في اللحم، وإن كانت مهزولة لا يجوز لأن الجرب في اللحم نقص ."

(كتاب الأضحية، ج:9، ص:515، ط:دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"والجرباء السمينة) فلو مهزولة لم يجز، لأن الجرب في اللحم نقص."

(كتاب الأضحية، 323/6، ط:سعيد)

وفیہ ایضاً:

"(ولو) (اشتراها سليمة ‌ثم ‌تعيبت ‌بعيب مانع) كما مر (فعليه إقامة غيرها مقامها إن) كان (غنيا، وإن) كان (فقيرا أجزأه ذلك)."

(كتاب الأضحية، 325/6، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144412100377

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں