بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

بیماری سے حفاظت کے لیے چادر میں قرآن رکھ کر اس کے نیچے سے گزرنا


سوال

ہمارے گاؤں میں ایک مولوی صاحب قرآن مجید کوکسی چادر میں رکھ کر اس کے نیچے سے لوگوں کو گزارتے ہیں اور تاثر  یہ دیتے ہیں کہ اس کے نیچے سے گزرا ہوا شخص امراض سے محفوظ و مامون ہوگیا، اس چادر میں پیسے ڈالے جاتے ہیں جوکہ امام صاحب کے  لیے مختص ہوتے ہیں۔ 

اس امر کی شرعی حیثیت اور اس امام کی اقتدا میں نماز کا حکم اور اس امام سے دینی و دنیوی اور گھریلو تعلقات قائم کرنے کے حکم سے آگاہ فرمائیں!

جواب

اس عمل کی شریعت میں کوئی اصل نہیں  ہے، لہذا اس سے اجتناب کرتے ہوئے  امراض اور آفات وغیرہ سے حفاظت کے  لیے جومسنون  اعمال اور  دعائیں شرعی طور پر ثابت ہیں ان کا اہتمام کرنا چاہیے۔  تاہم مذکورہ امام صاحب کی اقتدا  میں نماز پڑھنے اور ان سے معاشرتی تعلق برقرار رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

’’[فرع] في المجتبى: التميمة المكروهة ما كان بغير العربية.

(قوله: التميمة المكروهة) أقول: الذي رأيته في المجتبى التميمة المكروهة ما كان بغير القرآن، وقيل: هي الخرزة التي تعلقها الجاهلية اهـ فلتراجع نسخة أخرى. وفي المغرب: وبعضهم يتوهم أن المعاذات هي التمائم وليس كذلك؛ إنما التميمة الخرزة، ولا بأس بالمعاذات إذا كتب فيها القرآن، أو أسماء الله تعالى، ويقال: رقاه الراقي رقياً ورقيةً: إذا عوذه ونفث في عوذته، قالوا: إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو، ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به اهـ قال الزيلعي: ثم الرتيمة قد تشتبه بالتميمة على بعض الناس: وهي خيط كان يربط في العنق أو في اليد في الجاهلية؛ لدفع المضرة عن أنفسهم على زعمهم، وهو منهي عنه، وذكر في حدود الإيمان: أنه كفر اهـ. وفي الشلبي عن ابن الأثير: التمائم جمع تميمة وهي خرزات كانت العرب تعلقها على أولادهم يتقون بها العين في زعمهم، فأبطلها الإسلام، والحديث الآخر: «من علق تميمةً فلا أتم الله له»؛ لأنهم يعتقدون أنه تمام الدواء والشفاء، بل جعلوها شركاء؛ لأنهم أرادوا بها دفع المقادير المكتوبة عليهم، وطلبوا دفع الأذى من غير الله تعالى الذي هو دافعه اهـ ط وفي المجتبى: اختلف في الاستشفاء بالقرآن بأن يقرأ على المريض أو الملدوغ الفاتحة، أو يكتب في ورق ويعلق عليه أو في طست ويغسل ويسقى. وعن «النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان يعوذ نفسه»، قال - رضي الله عنه -: وعلى الجواز عمل الناس اليوم، وبه وردت الآثار‘‘. 

(6 / 363، کتاب الحظر والإباحة ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144303100875

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں