بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الاول 1442ھ- 23 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

بیماری کے متعدی ہونے اور چھوت چھات کا عقیدہ


سوال

کیا کوئی بیماری چھوت  چھات سے لگ سکتی ہے؟

جواب

مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کوئی مرض بذاتِ خود متعدی نہیں ہوتا، بلکہ سبب کے درجے میں اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو دوسرے انسان کو مرض لگتا ہے ورنہ نہیں لگتا، اسباب کے درجہ میں احتیاط کرنا توکل اور منشاءِ شریعت کے خلاف نہیں ہے،  لیکن کسی خاص مرض کے ہر حال میں دوسرے کو منتقل ہونے کا عقیدہ  رکھنا جائز نہیں ہے۔

اس بارے میں وارد  مختلف احادیثِ مبارکہ کے درمیاں شراحِ حدیث نے مختلف طرح سے تطبیق بیان کی ہے، جمہور محققین علماءِ کرام نے جو تطبیق دی ہےاس کا خلاصہ یہ ہے کہ :

                                       جن احادیثِ مبارکہ میں مرض کے متعدی ہونے کی نفی ہے اس سے مراد جاہلیت کے اس عقیدے کی نفی ہے کہ مرض بذاتہ یقینی طور پر متعدی ہوتاہے، بالفاظِ دیگر ہر مرض کے اندر مافوق الاسباب متعدی ہونے کی صلاحیت ہے، لہٰذا جاہلیت میں یہ نظریہ اس قدر پختہ تھا کہ مریض کے قریب جانے سے بیماری لازمی متعدی ہوتی ہے، وہ اس میں طبی اعتبار سے نہ فرق ملحوظ رکھتے تھے، نہ ہی اسے مشیت و قدرتِ خداوندی کا نتیجہ کہتے تھے، اس بداعتقادی کے قلع قمع کے لیے رسول اللہ ﷺ نے بیماری کے متعدی ہونے کی نفی فرمائی، باقی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور تقدیر کے تحت اس کے ضرر یا سبب بننے کی نفی نہیں کی۔

                              اور جن احادیثِ مبارکہ میں بیماری متعدی ہونے یا مریض سے دور رہنے کا حکم ہے اس سے مراد ماتحت الاسباب، اللہ تعالیٰ کی قدرت و مشیت اور تقدیرِ خداوندی کے تحت بیماری کا متعدی ہونا ہے، اگر اللہ پاک چاہیں تو بیماری لگے گی اور نہ چاہیں تو نہیں لگے گی، نیز ہر بیماری متعدی نہیں ہوتی، بلکہ  بعض بیماریاں سبب کے درجے میں متعدی ہوسکتی ہیں، اور اَسباب میں تاثیر پیدا کرنا محض اللہ تبارک وتعالیٰ کی قدرت ہے، عادت اور معمول کے مطابق اَسباب میں تاثیر ہوتی ہے، تاہم جس وقت اللہ چاہے وہ تاثیر ختم بھی کردیتاہے۔

چنانچہ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں :

                   "اہلِ مسلکِ ثانی نے یہ کہا کہ عدوی کی نفی سے مطلقاً نفی کرنا مقصود نہیں؛ کیوں کہ اس  کا مشاہدہ ہے ۔۔۔ مگر اہلِ مسلکِ ثانی نے اس کو خلافِ ظاہر سمجھ کر یہ کہا کہ مطلق عدوی کی نفی اس سے مقصود نہیں، بلکہ اس عدوی کی نفی مقصود ہے جس کے قائل اہلِ جاہلیت تھے اور جس کےمعتقدینِ سائنس اب بھی قائل ہیں، یعنی بعض امراض میں خاصیت طبعی لازم ہے  کہ ضرور متعدی ہوتے ہیں،  تخلف کبھی ہوتا ہی نہیں، سو اس کی نفی فرمائی گئی ہے  ۔۔۔الخ" (امداد الفتاوی، ج۴ / ص ۲۸۷)       

شرح النووی علی صحیح مسلم، کتاب السلام، باب لاعدوی ولاطیرة ولاهامة ولاصفر ولا نوء ...، (2/230) ط: قدیمي کراچي:

"قال جمهور العلماء: یجب الجمع بین هذین الحدیثین وهما صحیحان، قالوا: وطریق الجمع أن حدیث: "لاعدوی" المراد به نفي ماکانت الجاهلیة تزعمه وتعتقده أن المرض والعاهة تعدی بطبعها لابفعل الله تعالی، وأما حدیث: "لایورد ممرض علی مصح" فأرشد فیه إلی مجانبة مایحصل الضرر عنده في العادة بفعل الله تعالیٰ وقدره، فنفی في الحدیث الأول العدوی بطبعها، ولم ینف حصول الضرر عند ذلك بقدر الله تعالی وفعله، و أرشد في الثاني إلی الاحتراز مما یحصل عنده الضرر بفعل الله تعالی و إرادته وقدره. فهذا الذي ذکرناه من تصحیح الحدیثین والجمع بینهما هو الصواب الذي علیه جمهور العلماء، ویتعین المصیر إلیه".

الصحیح لمسلم، کتاب الإیمان، باب بیان کفر من قال: مطرنا بالنوء، (1/59) ط: قدیمي، کراچي:

"عن زید بن خالد الجهني قال: صلی بنا رسول الله ﷺ صلاة الصبح بالحدیبیة في أثر سماء کانت من اللیل، فلمّا انصرف أقبل علی الناس فقال: هل تدرون ماذا قال ربکم؟ قالوا: الله و رسوله أعلم! قال: قال: أصبح من عبادي مؤمن بي و کافر، فأمّا من قال: مُطِرْنا بفضل الله و رحمته فذلك مؤمن بي و کافر بالکوکب، و أمّا من قال:  مُطِرْنَا بنوء کذا و کذا، فذلك کافر بي مؤمن بالکوکب".

ترجمہ: حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حدیبیہ میں رات بارش ہونے کے بعد (صبح کی) نماز پڑھائی، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف رُخِ انور کرکے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں: میرے بندوں میں سے بعض صبح کے وقت مجھ پر ایمان لانے والے ہوئے اور کچھ میرے منکر، یعنی جس نے یوں کہا: ہم پر اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش برسی ہے، تو یہ مجھ پر ایمان لانے والا اور ستارے کا منکر ہے، اور جس نے  کہا: ہم پر فلاں فلاں نچھتر (ستاروں) کی وجہ سے بارش برسی ہے، یہ میرا منکر اور ستارے پر ایمان لانے والا ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110200971

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں