بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیمہ کمپنی کی ایجنٹ کمپنی میں کام کرنا


سوال

کیا کسی ایسی کمپنی کے لیے کام کرنا جائز ہے جو کسی انشورنس کمپنی کے لیے کال سینٹر کا کام کرتی ہو؟ کام کی نوعیت انشورنس کمپنی کے کسٹمر کو معلومات دینا ،اور انکو انشورنس کے لیے کمپنی کے ذمے دار لوگوں سےمتعارف کروانا ہے، اسکے بعد کے تمام معاملات انشورنس کمپنی اور کسٹمر کے درمیان طےپاتے ہیں ،اور ایجنٹ کا کوئی لین دین نہیں ہوتا۔

جواب

واضح  رہے کہ کسی بھی چیز کا انشورنس کروانا حرام اور ناجائز ہےاس لیے کہ انشورنس یا بیمہ پالیسی سود اور حرام کا مرکب اور مجموعہ ہے  لہذاصورت مسئولہ میں اگر یہ کمپنی صرف یہی کام کرتی ہے یا اس کا غالب کام یہی ہے اور اپنے اس کام کا انشورنس کمپنی سے معاوضہ لیتی ہے اور اسی سے اپنے ملازمین  کو تنخواہ دیتی ہے تو اس کمپنی میں کام کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ  یہ گناہ کے کام پر تعاون ہے ، اور شرعا  جس طرح  کسی کے لیے عین گناہ کا کام کرنا حرام اور ناجائز ہے اسی طرح کسی بھی گناہ کے کام میں تعاون کرنا بھی ناجائز ہے ۔

قرآن کریم میں ہے: 

"وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ"۔

ترجمہ: اور نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کی اعانت کرتے رہو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو اور اللہ تعالی سے ڈرا کرو بلا شبہ اللہ تعالی سخت سزا دینے والے ہیں۔(ماخوذ  از بیان القرآن)

( سورۃ المائدۃ ،آیت نمبر:2)

بدائع الصنائع میں ہے :

"وعلى هذا يخرج الاستئجار على المعاصي أنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا كاستئجار الإنسان للعب واللهو، وكاستئجار المغنية، والنائحة للغناء.......وكذا لو استأجر رجلا ليقتل له رجلا أو ليسجنه أو ليضربه ظلما وكذا كل إجارة وقعت لمظلمة؛ لأنه استئجار لفعل المعصية فلا يكون المعقود عليه مقدور الاستيفاء شرعا"۔

(بدائع الصنائع،كتاب الإجارة،فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة،ج:4،ص:189،ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی ھندیہ میں ہے:

"وأما شرائط الصحة.....ومنها أن يكون مقدور الاستيفاء - حقيقة أو شرعافلا يجوز استئجار الآبق ولا الاستئجار على المعاصي؛ لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا"۔

(الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة،الباب الأول تفسير الإجارة وركنها وألفاظها وشرائطها،ج:4،ص:411،ط:دار الفكر بيروت) 

فقط واللہ اعلم۔ 


فتوی نمبر : 144508102675

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں