بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 رجب 1444ھ 28 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

بہزاد،شاہ زین ،فاتح نام کا معنی اور حکم


سوال

مجھے اپنے بچے کا نام رکھنا ہے تو میں نے یہ تین نام پسند کیے ہیں :بہزاد،شاہ زین ،اور فاتح ،ان کے معنی بتادیں ؟اور اس میں کون سا نام رکھنا صحیح ہو گا ؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں بہزاد ایک صحابی رسول کا نام ہے ،"شاہ زین " میں "شاہ"  فارسی زبان کا لفظ ہے  بمعنی بادشاہ، اور "زین"  عربی  اور  فارسی میں مستعمل ہے، اس کا معنی  ہے: زیب و زینت؛ لہٰذا "شاہ زین" کا معنٰی ہے: "زیب و زینت کا بادشاہ"اور "فاتح " کا معنی ہے فتح پانے والا۔  یہ  حضور اقدس ﷺ کے ناموں میں سے ہیں،مذکورہ تینوں ناموں میں سے کوئی  بھی نام رکھنا جائز ہے لیکن  انبیاء کرام اور صحابہ کے نام پر نام رکھنا پسندیدہ ہے ؛لہذا مذکورہ ناموں میں سے فاتح  اور  بہزاد نام رکھنا زیادہ بہتر ہے ۔

اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں ہے :

"بهزاد أبو مالك

(س) ‌بهزاد أَبُو مالك. ذكره عبدان في الصحابة، وروى عَنْ جَعْفَر بْن عبد الواحد، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يحيى التوزي، عَنْ أبيه، عَنْ مسلم بْن عبد الرحمن، عَنْ يوسف بْن ماهك بْن ‌بهزاد، عَنْ جده ‌بهزاد قال: «خطبنا رسول الله صلى الله عليه وَسَلَّمَ فقال: احفظوني في أَبِي بكر فإنه لم يسؤني منذ صحبني» . قال عبدان: لا يعرف إلا ممن كتبناه عنه.أخرجه أَبُو موسى."

(ج:1،ص:247،دارالفکر)

المواہب اللدنیہ بالمنح المحمدیہ میں ہے :

"ورأيت فى كتاب «أحكام القرآن» للقاضى أبى بكر بن العربى: قال بعض الصوفية: لله تعالى ألف اسم وللنبى- صلى الله عليه وسلم- ألف اسم  ، انتهى.

والمراد الأوصاف: فكل الأسماء التى وردت أوصاف مدح، وإذا كان كذلك، فله- صلى الله عليه وسلم- من كل وصف اسم، ثم إن منها ما هو مختص به أو الغالب عليه، ومنها ما هو مشترك، وكل ذلك بيّن بين بالمشاهدة لا يخفى، وإذا جعلنا له من كل وصف من أوصافه اسما بلغت أوصافه ما ذكر، بل أكثر، والذى رأيته فى كلام شيخنا فى «القول البديع» ، والقاضى عياض فى «الشفا» وابن العربى فى «القبس» ، والأحكام له، وابن سيد الناس، وغيرهم يزيد على الأربعمائة، وقد سردتها مرتبة على حروف المعجم، وهى:

الأبر بالله، الأبطحى، أتقى الناس، الأجود، أجود الناس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الفاتح، الفارقليط- وقيل بالباء، وتقدم-، الفارق، فاروق، الفتاح."

(الفصل الاول فی ذکر اسمائہ الشریفۃ،ج:1،ص:445،المکتبۃ التوفیقیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403100304

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں