بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بہرہ آدمی نماز جنازہ کیسے پڑھے؟


سوال

ایک بہرا آدمی نمازجنازہ میں شریک ہوجائے پہلی تکبیر کا پتہ چل جاتا ہے ،بقیہ تین تکبیریں کس طرح ادا کرے؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں بہرے شخص کے پاس جو آدمی کھڑا ہے ،اس کو چاہیے کہ تکبیرات کے وقت  ہاتھ  اٹھا کر بہرے کو انتقال تکبیر کے طرف متوجہ کرے ، بعض فقہاء کے یہاں جنازہ کی تکبیرات میں ہاتھ اٹھانے کی  گنجائش ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے :

" وكثير من أئمة بلخ اختاروا رفع اليد في كل تكبيرة من صلاة الجنازة، وكان نصير بن يحيى يرفع تارة ولا يرفع تارة، وجه قول من اختار الرفع: أن هذه تكبيرات يؤتى بها في قيام مستوي فيرفع اليد عندها كتكبيرات العيد وتكبير القنوت، والجامع الحاجة إلى إعلام من خلفه من ‌الأصم، وجه ظاهر الرواية قول النبي - صلى الله عليه وسلم - «لا ترفع الأيدي إلا في سبع مواطن وليس فيها صلاة الجنازة»."

(كتاب الصلوة ،فصل بيان كيفية الصلاة على الجنازة،ج:1،ص:314 ،ط:رشيدية)

کفایۃ النبیہ  فی شرح التنبیہ  فی الفقہ الشافعی  ؒ میں ہے :

"واشترط في استحقاق الناطق الجواب على ‌الأصم: أن يتلفظ بالسلام بلسانه؛ لقدرته عليه، ويشير إليه باليد ليحصل له الإفهام؛ فإن فعل أحدهما لم يستحق الرد عليه."

(كتاب الصلوة ،‌‌باب ما يفسد الصلاة وما لا يفسدها ،ج:3،ص:440 ،ط:دارالكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144505101828

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں