بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

بہنوں کا حق وراثت قسطوں میں دینا


سوال

 1. وراثت کی تقسیم  کیسے ہوگی، جس خاندان میں 2 بھائی، 3 بہنیں اور ایک بیوہ ہو۔

2. کیا جائیداد سے وراثت کی رقم بہنوں کو قسطوں میں دی جا سکتی ہے؟

3. اگر اس شخص کی موت 2017 میں ہوئی ہے، تو کیا موت کے وقت زیر غور جائیداد کی قیمت یا جائیداد کی موجودہ تاریخ کی قیمت کو مدنظر رکھا جائے گا؟

جواب

 مرحوم  کےترکہ کی تقسیم کا شرعی  طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیزوتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو  اسے کل مال سے ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تواسے باقی مال کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد کل   ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 28حصوں میں تقسیم کرکے بیوہ کو 7حصے،ہر ایک بھائی کو 6اور ہر ایک بہن کو 3حصے ملیں گے۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت28/4

بیوہبھائیبھائیبہنبہنبہن
13
766333

فیصد کے اعتبار سے 25فیصد بیوہ کو،21.4فیصد ہر ایک بھائی کو اور 10.7فیصد ہر ایک بہن کو ملے گا۔

2۔بہنیں اپنے حصہ کی مالک ہیں،اگر بہنیں اپنے حصہ کی رقم قسطوں پر لینےمیں راضی ہیں تو کوئی حرج نہیں ،ورنہ ان کے مطالبہ پر   فوراً ان کا حق ادا کرنا ضروری ہے۔ 

3۔جس وقت وراثت کی تقسیم کی  جارہی ہے اسی وقت کی قیمت کا اعتبار ہے،اگر وفات کے وقت ترکہ تقسیم نہیں ہوا،بعد میں جائیداد کی ویلو بڑھ گئی تو ترکہ کی تقسیم کے وقت موجودہ مارکیٹ ویلو کا اعتبار ہوگا۔

مجلۃالاحکام العدلیۃ میٖں ہے:

"(المادة 1073) تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح."

(الکتاب العاشرفی الشرکات،ص206،نور محمد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144410101574

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں