بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ربیع الثانی 1442ھ- 05 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

بہنوں کو جائیداد کا حصہ نہ دینے والے کے گھر کھانا کھانا


سوال

جو آدمی اپنی بہنوں کو حصہ نہ دے، اس کے ہاں کھانا پینا کیسا ہے؟

جواب

ایسے شخص سے بائیکاٹ کرتے ہوئے اس کی اصلاح کی نیت سے اس کے یہاں کھانا نہ کھانا جائز ہے۔ البتہ اگر وہ حلال پیسوں سے کھانا کھلائے تو اسے حرام نہیں کہا جائے گا۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے :

"(عن أبي أيوب الأنصاري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لايحل لرجل أن يهجر» ) بضم الجيم (أخاه) أي: المسلم، وهو أعم من أخوة القرابة والصحابة. قال الطيبي: وتخصيصه بالذكر إشعار بالعلية، والمراد به أخوة الإسلام، ويفهم منه أنه إن خالف هذه الشريطة وقطع هذه الرابطة جاز هجرانه فوق ثلاثة…قال الخطابي: رخص للمسلم أن يغضب على أخيه ثلاث ليال لقلته، ولا يجوز فوقها إلا إذا كان الهجران في حق من حقوق الله تعالى، فيجوز فوق ذلك…وفي النهاية: يريد به الهجر ضد الوصل، يعني فيما يكون بين المسلمين من عتب وموجدة، أو تقصير يقع في حقوق العشرة والصحبة دون ما كان من ذلك في جانب الدين، فإن هجرة أهل الأهواء والبدع واجبة على مر الأوقات ما لم يظهر منه التوبة والرجوع إلى الحق". (۸/۳۱۴۶-۳۱۴۷، دار الفكر)

فقط و الله اعلم


فتوی نمبر : 144202201031

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں