بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بھینس کی قربانی کا حکم / قربانی کے لیے دنبے اور بکرے کی عمر


سوال

1.  کیا بھینس کی قربانی ہو سکتی ہے؟

2. دنبے یا بکرے کی قربانی کرتے وقت کم ازکم عمر کتنی ہونی چاہیے؟

جواب

1۔ بھینس / بھینسا کی قربانی جائز ہے، اس لیے کہ یہ گائے ہی کی ایک قسم ہے۔

2۔ بکرا/ بکری پورے ایک سال کے یا اس سے بڑے  ہوں تو ان کی قربانی درست ہے، اگر ایک سال سے ایک دن بھی کم ہوگا تو قربانی درست نہیں ہوگی۔ البتہ دنبہ / بھیڑ میں اس بات کی گنجائش ہے کہ اگر وہ ایک سال سے کم عمر کے ہوں مگر  چھ  ماہ سے زائد ہوں اور اتنے  فربہ ہوں کہ  دیکھنے میں سال بھر کے معلوم ہوتے ہوں تو ان کی قربانی درست ہے۔

الهداية في شرح بداية المبتدي (ج:4، ص:359، ط:دار احياء التراث العربي):

’’ويدخل في البقر الجاموس لأنه من جنسه.‘‘

لسان الحكام في معرفة الأحكام (ص:386، ط:البابي الحلبي - القاهرة):

’’الجاموس يجوز فِي الضَّحَايَا والهدايا اسْتِحْسَانًا.‘‘

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (ج:5، ص:69، ط:دار الكتب العلمية):

’’أما جنسه فهو أن يكون من الأجناس الثلاثة الغنم أو الإبل أو البقر، ويدخل في كل جنس نوعه والذكر والأنثى منه والخصي والفحل لانطلاق اسم الجنس على ذلك، والمعز نوع من الغنم، والجاموس نوع من البقر بدليل أنه يضم ذلك إلى الغنم والبقر في باب الزكاة.‘‘

الدر المختار و حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (ج:6، ص:321، ط:دار الفكر-بيروت):

’’(وصح الجذع) ذو ستة أشهر (من الضأن) إن كان بحيث لو خلط بالثنايا لا يمكن التمييز من بعد. (و) صح (الثني) فصاعدا من الثلاثة والثني (هو ابن خمس من الإبل، وحولين من البقر والجاموس، وحول من الشاة).

(قوله: وصح الجذع) بفتحتين، قهستاني (قوله: ذو ستة أشهر) كذا في الهداية، وفسره في شرح الملتقى شرعا بما أتى عليه أكثر الحول عند الأكثر. قال القهستاني: وفسر الأكثر في المحيط بما دخل في الشهر الثامن. وفي الخزانة بما أتى عليه ستة أشهر وشيء. وذكر الزعفراني أنه ابن سبعة، وعنه ثمانية أو تسعة، وما دونه حمل اهـ. قلت: واقتصر في الخانية على ما في الخزانة، وقيد بقوله شرعا لأنه في اللغة ما تمت له سنة، نهاية (قوله: من الضأن) هو ما له ألية، منح، قيد به لأنه لا يجوز الجذع من المعز وغيره بلا خلاف كما في المبسوط قهستاني.‘‘

الفتاوى الهندية (ج:5، ص:297، ط:دار الفكر):

’’(وأما سنه) فلا يجوز شيء مما ذكرنا من الإبل والبقر والغنم عن الأضحية إلا الثني من كل جنس إلا الجذع من الضأن خاصة إذا كان عظيما.‘‘

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144212200728

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں