بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 جُمادى الأولى 1445ھ 12 دسمبر 2023 ء

دارالافتاء

 

20 کلو آٹا بیچ کر 18 کلو دینے کا حکم


سوال

 آج کل  مارکیٹ  میں  20  کلو  آٹے  کے تھیلے میں  18یا 19 کلو آٹا ہوتا ہے،  جب کہ دوکاندار  گاہک  کے  سامنے  وزن  نہیں کرتے  اور  بیس کلو  بتا کر فروخت کرتے ہیں،   پیسے پورے بیس کلو کے لیتے ہیں، کیا یہ بیع جائز ہے ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر معاملہ وزن سے کیا جارہا ہے  تو پھر بیس کلو کہہ کر  ۱۸ یا ۱۹ کلو  خریدار کو دینا شرعًا نا جائز ہے اور بیچنے والے پر لازم ہے کہ وہ وزن مکمل کرے یا پھر ۱۸ یا ۱۹ کلو دینے کی صورت میں یا تو بقیہ آٹا دے دے یا جتنی اضافی رقم وصول کرلی ہے وہ واپس کردے۔

اگر معاملہ تھیلے کے حساب سے کیا ہے کہ یہ ایک تھیلا میں جتنا آتا ہے وہ  مثلًاہزار  روپے کا ہے تو پھر مذکورہ معاملہ کرنا درست ہوگا کیونکہ اس صورت میں آٹا وزن کے حساب سے نہیں بیچا جارہا بلکہ  اس بنیاد پر فروخت کیا  جارہا ہے  کہ اس تھیلے میں جو کچھ ہے وہ ہزار  روپے کا ہے ،اب وہ خواہ اٹھارہ کلو ہو یا انیس ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وإن باع صبرة على أنها مائة قفيز بمائة درهم وهي أقل أو أكثر أخذ) المشتري (الأقل بحصته) إن شاء (أو فسخ) لتفرق الصفقة وكذا كل مكيل أو موزون.

(قوله: على قدر معين) فما زاد عليه لا يدخل في العقد فيكون للبائع بحر ومفاده: أن المعتبر ما وقع عليه العقد من العدد، وإن كان ظن البائع أو المشتري أنه أقل أو أكثر."

(کتاب البیوع، ج نمبر ۴، ص نمبر ۵۴۲،ایچ ایم سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"وصح بيع الطعام) هو في عرف المتقدمين اسم للحنطة ودقيقها (كيلا وجزافا) مثلث الجيم معرب كزاف المجازفة (إذا كان بخلاف جنسه ولم يكن رأس مال سلم) لشرطية معرفته كما سيجيء (أو كان بجنسه وهو دون نصف صاع) إذ لا ربا فيه كما سيجيء (و) من المجازفة البيع (بإناء وحجر لا يعرف قدره) قيد فيهما وللمشتري الخيار فيهما نهر وهذا (إذا لم يحتمل) الإناء (النقصان و) الحجر (التفتت) فإن احتملهما لم يجزكبيعه قدر ما يملأ هذا البيت ولو قدر ما يملأ هذا الطشت جاز سراج

قوله: كبيعه إلخ) عبر في الفتح وغيره بقوله وعن أبي جعفر باعه من هذه الحنطة قدر ما يملأ الطشت جاز ولو باعه قدر ما يملأ هذا البيت لا يجوز. اهـ."

(کتاب البیوع، ج نمبر ۴، ص نمبر ۵۳۸،ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144412101598

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں