بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الاول 1443ھ 25 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

بیماری سے نجات کے لیے دعا کرنے اجمیر شریف جانا


سوال

میں پانچ سال کی عمر سے کم سن رہا ہوں، میں نے بہت سارے بڑے بڑے ڈاکٹروں سے علاج کرایا، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا، لیکن اب سوچ رہا ہوں کہ میں اجمیر شریف جاکر خواجہ غریب نواز رحمة اللّٰہ علیہ کے مزار پر حاضری دے کر اللّٰہ تبارک و تعالی سے اپنے کان کے لیے دعا کروں۔ براہِ کرم مجھے قرآن اور حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ میں ایسا کر سکتا ہوں؟ کہیں میرا یہ عمل شرک میں تو داخل نہیں ہوگا؟

ابھی میری عمر ٢١ سال ہے!

جواب

بزرگوں کے وسیلہ سے  دعا کرنا جائز ہے، تاہم خاص دعا کی غرض سے کسی بزرگ کے مزار پر حاضری دینا شرعًا جائز نہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں  کان کی بیماری سے نجات  کے لیے خواجہ غریب نواز  رحمہ اللہ کے مزار جانا جائز نہ ہوگا، البتہ  اپنی جائے  اقامت پر رہتے ہوئے  ان کے وسیلہ سے اللہ سے دعا کرسکتے ہیں۔

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

’’خلاصہ یہ کہ اس اعتقاد سے یا حاجت طلبی کے لیے یا جس طرح مسجد حرام و مسجد اقصیٰ ومسجد نبوی ﷺ و روضۂ اطہر کی زیارت کے لیے دور دراز کا سفر کر کے جاتے ہیں، اس طرح اجمیر وغیرہ کی حاضری کے لیے خاص سفرکرنا ناجائز اور منع ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں:

"أَقُول: كَانَ أهل الْجَاهِلِيَّة يقصدون مَوَاضِع معظمة بزعمهم يزورونها، ويتبركون بهَا، وَفِيه من التحريف وَالْفساد مَا لَا يخفى، فسد النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفساد لِئَلَّا يلْتَحق غير الشعائر بالشعائر، وَلِئَلَّا يصير ذَرِيعَة لعبادة غير الله".

میں کہتا ہوں اہل جاہلیت کچھ مقامات کو اپنے زعم میں معظم سمجھتے تھے، ان کی زیارت کرنے کے لیے اور برکت حاصل کرنے کے لیے سفر کرتے تھے، حال آں کہ اس میں دین کی وہ تحریف اور فساد ہے جو پوشیدہ نہیں ہے، پس نبی ﷺ نے اس فساد کا دروازہ بند کر دیا؛ تاکہ جو چیزیں شعائرِ الٰہی نہیں ہیں وہ شعائر نہ بن جائیں، اور تاکہ یہ غیر اللہ کی عبات کا ذریعہ نہ بن جائے۔ (حجۃ الله البالغہ ج ۱ ص ۴۸۰ من ابوات الصلوٰۃ المساجد التی تشدالیھا الرحال، مطبع اصح المطابع وکارخانہ تجارت کتب کراچی)‘‘

( کتاب الحج، ۸ / ۳۶ - ۳۷)

فتاوی شامی میں ہے:

’’(قَوْلُهُ: لِأَنَّهُ لَا حَقَّ لِلْخَلْقِ عَلَى الْخَالِقِ) قَدْيُقَالُ: إنَّهُ لَا حَقَّ لَهُمْ وُجُوبًا عَلَى اللَّهِ تَعَالَى، لَكِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى جَعَلَ لَهُمْ حَقًّا مِنْ فَضْلِهِ أَوْ يُرَادُ بِالْحَقِّ الْحُرْمَةُ وَالْعَظَمَةُ، فَيَكُونُ مِنْ بَابِ الْوَسِيلَةِ وَقَدْ قَالَ تَعَالَى: -{وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ}[المائدة: 35]-: وَقَدْ عَدَّ مِنْ آدَابِ الدُّعَاءِ التَّوَسُّلَ عَلَى مَا فِي الْحِصْنِ، وَجَاءَ فِي رِوَايَةٍ: «اللَّهُمَّ إنِّي أَسْأَلُك بِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْك، وَبِحَقِّ مَمْشَايَ إلَيْك، فَإِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَلَا بَطَرًا» الْحَدِيثَ اهـ ط عَنْ شَرْحِ النُّقَايَةِ لِمُنْلَا عَلِيٍّ الْقَارِي وَيُحْتَمَلُ أَنْ يُرَادَ بِحَقِّهِمْ عَلَيْنَا مِنْ وُجُوبِ الْإِيمَانِ بِهِمْ وَتَعْظِيمِهِمْ، وَفِي الْيَعْقُوبِيَّةِ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْحَقُّ مَصْدَرًا لَا صِفَةً مُشَبَّهَةً فَالْمَعْنَى بِحَقِّيَّةِ رُسُلِك فَلَا مَنْعَ فَلْيُتَأَمَّلْ اهـ أَيْ الْمَعْنَى بِكَوْنِهِمْ حَقًّا لَا بِكَوْنِهِمْ مُسْتَحَقِّينَ.

أَقُولُ: لَكِنَّ هَذِهِ كُلَّهَا احْتِمَالَاتٌ مُخَالِفَةٌ لِظَاهِرِ الْمُتَبَادَرِ مِنْ هَذَا اللَّفْظِ وَمُجَرَّدُ إيهَامِ اللَّفْظِ مَا لَا يَجُوزُ كَافٍ فِي الْمَنْعِ كَمَا قَدَّمْنَاهُ فَلَا يُعَارِضُ خَبَرَ الْآحَادِ فَلِذَا وَاَللَّهُ أَعْلَمُ أَطْلَقَ أَئِمَّتُنَا الْمَنْعَ عَلَى أَنَّ إرَادَةَ هَذِهِ الْمَعَانِي مَعَ هَذَا الْإِيهَامِ فِيهَا الْإِقْسَامُ بِغَيْرِ اللَّهِ تَعَالَى، وَهُوَ مَانِعٌ آخَرُ تَأَمَّلْ. نَعَمْ ذَكَرَ الْعَلَّامَةُ الْمُنَاوِيُّ فِي حَدِيثِ «اللَّهُمَّ إنِّي أَسْأَلُك وَأَتَوَجَّهُ إلَيْك بِنَبِيِّك نَبِيِّ الرَّحْمَةِ» عَنْ الْعِزِّ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ أَنَّهُ يَنْبَغِي كَوْنُهُ مَقْصُورًا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْ لَا يُقْسِمَ عَلَى اللَّهِ بِغَيْرِهِ وَأَنْ يَكُونَ مِنْ خَصَائِصِهِ قَالَ وَقَالَ السُّبْكِيُّ: يَحْسُنُ التَّوَسُّلُ بِالنَّبِيِّ إلَى رَبِّهِ وَلَمْ يُنْكِرْهُ أَحَدٌ مِنْ السَّلَفِ وَلَا الْخَلَفِ إلَّا ابْنَ تَيْمِيَّةَ فَابْتَدَعَ مَا لَمْ يَقُلْهُ عَالِمٌ قَبْلَهُ اهـ‘‘.

(كتاب الحظر و الإباحة، فصل في البيع، ۶ / ۳۹۷، ط: دار الفكر)

حجة الله البالغة میں ہے:

’’أَقُول: كَانَ أهل الْجَاهِلِيَّة يقصدون مَوَاضِع معظمة بزعمهم يزورونها، ويتبركون بهَا، وَفِيه من التحريف وَالْفساد مَا لَا يخفى، فسد النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفساد لِئَلَّا يلْتَحق غير الشعائر بالشعائر، وَلِئَلَّا يصير ذَرِيعَة لعبادة غير الله، وَالْحق عِنْدِي أَن الْقَبْر وَمحل عبَادَة ولي من أَوْلِيَاء الله وَالطور كل ذَلِك سَوَاء فِي النَّهْي وَالله أعلم‘‘.

(المساجد، ١ / ٣٢٥، ط: دار الجيل، بيروت - لبنان)

 فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144202200096

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں