بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الاول 1442ھ- 23 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

بیماری کے بغیر حجامہ سنت ہے یا نہیں؟


سوال

حجامہ کسی بیماری کےلیے سنت طریقہ علاج ہے یا بغیر بیماری کے حجامہ لگوانے سے بھی سنت پر عمل کا ثواب ملے گا؟

جواب

حجامہ لگانا سنت ہے، نبی کریم ﷺ نے حجامہ لگایا ہے، سنن ترمذی کی روایت ہے کہ جب معراج کے موقع پر آپ ﷺ کا فرشتوں کی جماعت پر سے گزر ہوا تو انہوں نبی کریم ﷺ سے فرمایا کہ آ پ  اپنی امت کوحکم دیں کہ وہ حجامہ کے ذریعہ علاج کریں، صحیح  بخاری میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے احرام کی حالت میں پچھنے لگوائے ہیں اور روزہ کی حالت میں بھی پچھنےلگوائے ہیں، نبی کریم ﷺ مہینے کی انیس، اکیس اور تئیس تاریخ کو حجامہ لگاتے تھے، صحیح مسلم میں ہےکہ نبی کریم ﷺ نے ابو طیبہ سے پچھنے لگوائے اور انہیں بطور اجرت دو صاع دینے کا حکم فرمایا۔

بیماری کو دور کرنے کے لیے یا بیماری کے آنے سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے حجامہ سنت طریقہ ہے۔

البتہ صحت اور مزاج کے اعتبار سے لوگوں کے مختلف احوال ہوتے ہیں، ممکن ہے کہ پچھنے لگوانا کسی کو موافق نہ آئے، اس لیے کسی  صاحبِ تجربہ ماہر شخص کے مشورے سے پچھنے لگوانے چاہییں۔

            سنن ترمذی میں ہے:

عن ابن مسعود قال: حدث رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ليلة أسري به، أنه لم يمر على ملأ من من الملائكة إلا أمروه أن مر أمتك بالحجامة.

( سنن الترمذي، أبواب الطب، باب  ما جاء في الحجامة ۲ / ۲۵ ط: قديمي)

صحیح بخاری میں ہے:

عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم احتجم و هو محرم و احتجم و هو صائم.

(صحيح البخاري، كتاب الصوم،باب الحجامة و القيئ للصائم ۱/ ۲٦٠ ط: قديمي )

سنن ترمذی میں ہے:

و كان يحتجم لسبع عشرة و تسع عشرة و إحدى و عشرين.

( سنن الترمذي، أبواب الطب، باب ما جاء في الحجامة ۲ / ۲۵ ط: قديمي)

صحیح مسلم میں ہے:

احتجم رسول الله صلى الله عليه وسلم ، حجمه أبو طيبة ، فأمر له بصاعين·

( الصحيح لمسلم ، كتاب البيوع، باب حل أجرة الحجامة ۲ / ۲۲ ط: قديمي)

عمدة القاري شرح صحيح البخاري  (31 / 309):

وذكره البخاري ليدل على أن الحجامة لا تتعين بوقت من النهار أو الليل بل يجوز في أي ساعة شاء من الليل أو النهار.

عمدة القاري شرح صحيح البخاري  (31 / 310):

وقد أخرج الطبري بسند صحيح عن ابن سيرين قال إذا بلغ الرجل أربعين سنة لم يحتجم قال بعضهم وهذا محمول على من لم تتعين حاجته إليه وعلى من لم يعتد به قلت هذا أيضا يتمشى فيمن لا تتعين حاجته إليه من الشبان ممن كانوا قبل الأربعين وفيمن لا يعتد به منهم وقيل الأطباء على خلاف ما قاله ابن سيرين". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200783

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں