بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیع عینہ کی ایک صورت


سوال

اگر مجھے پیسوں کی ضرورت ہو ،میں شوروم جاؤں اور شوروم میں دو بندے بیٹھے ہوں ،ایک   شخص (الف )مجھے موٹرسائیکل  ستر ہزار  کا بیچے ،تین ہزار مہینہ کی قسط پر ،میں موٹر سائیکل  کو شوروم میں بیٹھے  دوسرے شخص(ب) پر 55000 روپے میں نقد  پر بیچ دوں ،اس دوسرے شخص(ب) نے مجھے  55000 ہزار دیے اور مجھے 15000 کا نقصان ہوا ،اور اس دوسرے شخص (ب )نے پھر موٹر سائیکل  پہلے والے شخص (الف) کو واپس کردی، اور پہلے والے شخص(الف) نے دوسرے شخص (ب) کو  55000 دیا ، کیا اس طرح کا سودا صحیح ہوگا ؟

جواب

سوال میں آپ نے قرض وصول کرنے کی جو صورت ذکر کی ہے  اسے شریعت کی اصطلاح میں ’’بیعِ عینہ‘‘ کہتے ہیں جوکہ ناجائز ہے اور سود خوری کا ہی ایک راستہ اور ناجائز حیلہ ہے، اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے عقد کو رسوائی اور ذلت کا سبب قرار دیا ہے، جیسا کہ ’’سنن ابی داؤد‘‘ میں بروایت حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان منقول ہے کہ جب تک تم "بیع عینہ" کرتے رہوگے اور جانوروں کی دیکھ بھال میں لگے رہوگے  اور  زراعت میں گم ہوجاؤ گے اور  جہاد چھوڑ دوگے تو اللہ تم پر ذلت و رسوائی مسلط کردے گا، یہاں تک کہ تم دوبارہ دین کی طرف نہ لوٹ آؤ۔

’’عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم: إذا تبايعتهم العينة، و أخذتم أذناب البقر، و رضيتم بالزرع، و تركتم الجهاد، سلط الله عليكم الذلة، لاينزعه حتي ترجعوا إلی دينكم‘‘. (رقم الحديث: ٣٤٦٢)

لہذا اگر اس طرح کا عقد کرلیا ہے تو اسے فوری طور پر ختم کر دینا چاہیے  اور  اللہ رب العزت سے اپنے اس عمل پر  سچے  دل سے فوری طور پر توبہ کرنا ضروری ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: في بيع العينة) اختلف المشايخ في تفسير العينة التي ورد النهي عنها. قال بعضهم: تفسيرها أن يأتي الرجل المحتاج إلى آخر ويستقرضه عشرة دراهم ولايرغب المقرض في الإقراض طمعًا في فضل لايناله بالقرض فيقول: لاأقرضك، ولكن أبيعك هذا الثوب إن شئت باثني عشر درهمًا وقيمته في السوق عشرة ليبيعه في السوق بعشرة فيرضى به المستقرض فيبيعه كذلك، فيحصل لرب الثوب درهمًا وللمشتري قرض عشرة. وقال بعضهم: هي أن يدخلا بينهما ثالثًا فيبيع المقرض ثوبه من المستقرض باثني عشر درهما ويسلمه إليه ثم يبيعه المستقرض من الثالث بعشرة ويسلمه إليه ثم يبيعه الثالث من صاحبه وهو المقرض بعشرة ويسلمه إليه، ويأخذ منه العشرة ويدفعها للمستقرض فيحصل للمستقرض عشرة ولصاحب الثوب عليه اثنا عشر درهما، كذا في المحيط، وعن أبي يوسف: العينة جائزة مأجور من عمل بها، كذا في مختار الفتاوى هندية. وقال محمد: هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا. وقال عليه الصلاة والسلام: «إذا تبايعتم بالعينة واتبعتم أذناب البقر ذللتم وظهر عليكم عدوكم»." (٥/٢٧٣)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200286

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں