بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بازو اور ٹانگ کے درد کے لیے وظیفہ


سوال

روڈ ایکسیڈنٹ کی وجہ سے میرے سر پر چوٹ لگی تھی، اور الٹی طرف سائیڈ  ٹانگ اور بازوصحیح کام نہیں کرتے، جس کی وجہ سے میں چلنے  میں لنگڑا کر چلتا ہوں، کافی عرصہ علاج بھی کروایا ہے، مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا،اب کوئی وظیفہ ہی بتائیں ۔

جواب

سائل کو چا ہیے کہ کسی ماہر طبیب /ڈاکٹر   کی طرف رجوع کریں ،اور درج ذیل ادعیہ واذکار کا اہتمام کریں ،ان شاء اللہ شفاء مل جائے گی ۔

1-دو رکعت صلاۃ ِحاجت پڑھنے کے بعد آیات ِشفاء پڑھ کر دعا مانگا کریں ،آیاتِ شفاء درج ذیل ہیں :

1-وَیَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ

2-قَدْ جَآءَ تْکُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفٍآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ

3-یَخْرُجُ مِنْ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهُ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ

4- وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَاهُوَ شِفَآءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ

5- وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ

6-قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَآءٌ

2-چلتے پھرتےتسمیہ(بسم الله الرحمن الرحيم)پڑ ھ کر"لاحول ولاقوۃ إلاباللہ" کا وِرد کریں۔

کنز العمال میں ہے:

"إذا وقعت في ورطة فقل: بسم الله الرحمن الرحيم ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم، فإن الله تعالى يصرف بها ما شاء من أنواع البلاء". "ابن السني في عمل يوم وليلة عن علي."

(‌‌الباب الثامن: الدعاء،‌‌‌‌‌‌الفصل الخامس: أدعية مؤقتة،ج:2 ،ص:118،ط:مؤسسة الرسالة)

سنن ترمذی میں ہے:

"حدثنا علي بن عيسى بن يزيد البغدادي قال: حدثنا عبد الله بن بكر السهمي، ح وحدثنا عبد الله بن منير، عن عبد الله بن بكر، عن فائد بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن أبي أوفى، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من كانت له إلى الله حاجة، أو إلى أحد من بني آدم فليتوضأ وليحسن الوضوء، ثم ليصل ركعتين، ثم ليثن على الله، وليصل على النبي صلى الله عليه وسلم، ثم ليقل: لا إله إلا الله الحليم الكريم، سبحان الله رب العرش العظيم، الحمد لله رب العالمين، أسألك موجبات رحمتك، وعزائم مغفرتك، والغنيمة من كل بر، والسلامة من كل إثم، لا تدع لي ذنبا إلا غفرته، ولا هما إلا فرجته، ولا حاجة هي لك رضا إلا قضيتها يا أرحم الراحمين ": «هذا حديث غريب وفي إسناده مقال، فائد بن عبد الرحمن يضعف في الحديث، وفائد هو أبو الورقاء."

(کتاب الصلاة،‌‌باب ما جاء في صلاة الحاجة،ج:2،ص:344،ط:مصطفى البابي الحلبي)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144508102288

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں