بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

بیع سلم کی مدت میں تقدیم وتاخیر کا حکم


سوال

بیع سلم میں رب السلم اور مسلم   الیہ نے ایک مدت مقرر کر لیا  ،  رب السلم   نے مسلم الیہ سے کہا کہ یہ راس المال لے لیں اور مجھے تین ماہ بعد مبیع سپرد کر دوں گے، تو کیا مقرر شدہ مدت سے متعاقدین آپس کی رضامندی سے تقدیم و تاخیر کر سکتے ہیں ؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں بیع سلم کی مدت میں رب السلم اور مسلم الیہ کی رضامندی سے تقدیم وتاخیر کرسکتے ہیں ۔

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے :

"وفي اجتهاد الحنفية: إذا حل أجل تسليم المسلم فيه، وانقطع وجود المبيع بحيث يتعذر تسليمه، كان المشتري بالخيار بين أن ينتظر وجوده، أو يفسخ البيع، ويسترد الثمن."

(المطلب الثانی شروط السلم،ج:5،ص:3615،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501101045

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں