بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

مشتری کو اس شرط کے ساتھ کوئی چیز بیچنا کہ وہ بائع کو وہ چیز کچھ عرصہ بعد واپس کرے گا پر بیع کا حکم


سوال

الحیات گروپ آف کمپنیز پراپرٹی کا کاروبار کرتے ہیں وہ اس طرح کہ  اسلام آباد میں برانڈز کے لیےکمرشل جگہیں ہوتی ہیں،جس میں آپ جتنی بھی انوسٹمنٹ کرنا چاہتے ہیں كرسکتےہیں، ان جگہوں سے جو انکم آتی ہے کرایہ کی صورت میں تو یہ لوگ وہ کرایہ انوسٹرزکے ساتھ شیئر کرتے ہیں،مثلاً ایک جگہ پانچ کروڑ کی ہے تو اُس میں انوسٹر اگر دس لاکھ روپےسے زائد انوسٹ کرنا چاہے تو اُس کو اسکوائر فٹ کے حساب سے جگہ دی جاتی ہے،اور وہ جگہ انوسٹر کے نام کرکے ٹرانسفر بھی کر دی جاتی ہے،اور اگر دس لاکھ سے کم کی رقم انوسٹ کرنا چاہے تو یہ لوگ صرف انوسٹر کے ساتھ اُس کا ایگریمنٹ لکھ دیتے ہیں،اُس کے نام ٹرانسفر نہیں کرتے، اس میں دس لاکھ سے زائد رقم انوسٹ کرنے والے کے نام جو جگہ لکھوائی جاتی ہے اُس کے ٹرانسفر کرنے پر جو اخراجات آتے ہیں وہ پہلی دفعہ میں کمپنی والے ہی برداشت کرتے ہیں،اور یہ معاہدے میں لکھا جاتا ہے کہ یہ 14 سے 16 مہینے کا ایک پیکج ہوگا،اور اس مدت کے بعد اُس انوسٹر کو انوسٹ کی گئی رقم واپس کر دی جاتی ہے،اور وہ جگہ اُسی کمپنی والوں کو واپس ٹرانسفر کرانا ضروری ہوتا ہے اور اس ٹرانسفر کرانے کے اخراجات اس دوسری دفعہ میں انوسٹر برداشت کرے گا، یعنی مذکورہ مدت کے پورا ہونے کے بعد انوسٹر کو تقریباً دس لاکھ کی جگہ 20 لاکھ روپے ملتے ہیں،اور مذکورہ مدت کے دوران اُس جگہ کا کرایہ بھی ہر مہینے انوسٹر کو ملتا ہے۔کیا مذکورہ طرز پر کاروبار کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ مذکورہ کمپنی کی طرف سے اشتہارات میں یہ لکھا ہوا ہوتا ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ انویسٹمنٹ(چاہے دس لاکھ سے کم کی ہو یا زیادہ کی) اس بات کے ساتھ مشروط ہوتی ہے کہ  جو زمین انویسٹر کی رقم کے عوض اس کے نام کردی گئی ہے،  انویسٹر 14 سے 16 ماہ بعد یہ زمین الحیات گروپ آف کمپنیز کو واپس کرنے کا پابند ہوگاتو یہ شرطِ فاسد ہے،جس میں انویسٹر کانقصان اور کمپنی کا فائدہ ہے،اس لیے اس شرط کی وجہ سے مذکورہ انویسٹمنٹ کا معاملہ ناجائز ہے اور جولوگ اس معاہدے سے منسلک ہوگئے ہوں ان کے لیے علم ہوجانے کے بعد اس معاملہ کو فوری ختم کرنا ضرور ی ہے۔

"المبسوط للسرخسي"میں ہے:

"وإن كان شرطا لا يقتضيه العقد وليس فيه عرف ظاهر قال: فإن كان فيه منفعة لأحد المتعاقدين فالبيع فاسد؛ لأن الشرط باطل في نفسه والمنتفع به غير راض بدونه فتتمكن المطالبة بينهما بهذا الشرط فلهذا فسد له البيع."

(ص:١٥،ج:١٣،کتاب البیوع،باب ‌البيوع إذا كان فيها شرط،ط:دار المعرفة)

"رد المحتار على الدر المختار"میں ہے:

"(و) لا (بيع بشرط)...(لا يقتضيه العقد ولا يلائمه وفيه نفع لأحدهما أو) فيه نفع (لمبيع) هو (من أهل الاستحقاق) للنفع بأن يكون آدميا، ...(ولم يجر العرف به و) لم (يرد الشرع بجوازه) أما لو جرى العرف به كبيع نعل مع شرط تشريكه، أو ورد الشرع به كخيار شرط فلا فساد.

(قوله ولا بيع بشرط) شروع في الفساد الواقع في العقد بسبب الشرط «لنهيه صلى الله عليه وسلم عن بيع وشرط» ، لكن ليس كل شرط يفسد البيع نهر. وأشار بقوله بشرط إلى أنه لا بد من كونه مقارنا للعقد؛ لأن الشرط الفاسد لو التحق بعد العقد، قيل يلتحق عند أبي حنيفة، وقيل: لا وهو الأصح."

(ص:٨٤،ج:٥،کتاب البیوع،باب البيع الفاسد،ط:ايج ايم سعيد) 

"الفتاوى الهندية"میں ہے:

"وإن كان الشرط شرطا لم يعرف ورود الشرع بجوازه في صورته وهو ليس بمتعارف إن كان لأحد المتعاقدين فيه منفعة أو كان للمعقود عليه منفعة والمعقود عليه من أهل أن يستحق حقا على الغير فالعقد فاسد كذا في الذخيرة."

(ص:١٣٤،ج:٣،کتاب البیوع،الباب العاشر في الشروط التي تفسد البيع والتي لا تفسده،ط:دار الفکر،بیروت) 

وفيه ايضا:

"ولو اشترى شيئا ليبيعه من البائع فالبيع فاسد."

(ص:١٣٤،ج:٣،کتاب البیوع،الباب العاشر في الشروط التي تفسد البيع والتي لا تفسده،ط:دار الفکر،بیروت) 

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144501100031

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں