بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

شوہر کا بیوی کو پردہ سے منع کرنے کا حکم


سوال

 میری بہن شرعی پردہ کرتی ہے اور شادی سے پہلے یہ طے ہوا تھا کہ شادی کے دو مہینے بعد وہ ایک الگ گھر میں رہے گی تو اس کے شوہر نے اس بات پر ہاں کہی تھی لیکن اب اس کا شوہر ماننے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے بھائیوں سے سلام کرو اور جب سب شام کے وقت باہر کمرے میں بیٹھتے ہیں تو کہتا ہے کہ تم بھی جا کر بیٹھو نیز یہ کہ وہ دونوں جو اس شوہر کے بھائی ہیں یعنی میری بہن کے دیور وہ دین سے بہت دور ہیں نہ رمضان کے روزے نہ جمعہ کی نماز اور ان کا ایک بیٹا ہے جو کہ 16 سال کا ہے وہ بھی اج کل کے لڑکوں کی طرح بالکل اوارہ ٹائپ کا ہے۔

اب آپ بتائیں میری بہن کیا کریں میری بہن کے شوہر نہ دین پڑھے ہوئے ہیں اور نہ دنیا کی پڑھائی آدھی پڑھ کر چھوڑ دی تھی اور دین میں صرف چار مہینے لگائے ہیں اور اپنے آپ کو ایک بہت بڑے عالم دین سمجھتے ہیں اور ہر چیز میں اور پر پابندی لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اپنے سے نیچے دیکھو اور فلاں صحابی کے پاس صرف ایک چادر تھی فلاں کے پاس صرف ایک کپڑا تھا تم اپنے سے نیچے دیکھو اپنے سے نیچے دیکھو شادی سے پہلے اس کے شوہر کا ہمارے گھر انا جانا تھا انہیں سب ہمارے گھر کا معمول وغیرہ پتہ تھا اب نہ وہ ہمارے گھر انے کے لیے میری بہن کو چھوڑتے ہیں نہ کسی دینی درسگاہ میں جوڑتے ہیں بس کہتے ہیں کہ گھر کا کام کرو اور بس گھر میں ہی رہو اور میری بہن مدرسہ پڑھی ہوئی ہے لیکن اس کو بری بری گالیاں دیتے ہیں اور یہاں تک کہ دو سے تین مرتبہ مار چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں کبھی تمہیں طلاق نہیں دوں گا تو کیا اس صورت میں ہمارے لیے خلع لینا جائز ہے؟ اور آپ کے فتاوی میں یہ بھی لکھا ہے کہ خلع ایک مالی معاملات کی طرح سے ہے اس میں جانبین کی رضامندی ضروری ہے تو جب شوہر راضی ہی نہ ہو اور جان بوجھ کر  شوہر نہ طلاق کے لیے راضی ہو نہ خلع کے لیے راضی ہو تو پھر عورت کیا کرے عدالت اگر اس کو فیصلہ سنا دیتی ہے تو اگر شوہر عدالت کا فیصلہ بھی نہ مانے تو پھر عورت کیا کرے گی؟

جواب

مشترکہ خاندانی نظام اور جوائنٹ فیملی سسٹم  میں رہنا یا نہ رہنا یہ گھریلو انتظامی نوعیت کا مسئلہ ہے، اگر  سب مل کر  باہمی رضامندی سے  ایک ساتھ رہنا چاہیں تو  پردہ کے ساتھ رہ سکتے ہیں، اس طرح  ساتھ  رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ البتہ  مشترکہ خاندانی نظام میں جب غیر محرموں کا آمنا سامنا رہتا ہو تو عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑی چادر سے چھپائے رکھے، مستقل چہرہ پر نقاب ڈال کر رکھنا ضروری نہیں ہے، البتہ  گھریلو امور انجام دیتے ہوئے بڑی چادر لے کر اس کا گھونگھٹ  بنالیا جائے؛ تاکہ چہرے پر غیر محرم کی نگاہ نہ پڑے، بلا  ضرورت غیر محرم (دیور، جیٹھ، چچا زاد، ماموں زاد وغیرہ)  سے بات چیت نہ کی جائے، اگر کبھی کوئی ضروری بات یا کام ہو تو  آواز میں لچک پیدا کیے بغیر  سختی کے ساتھ پردہ میں رہ کر ضرورت کی حد تک بات کی جائے۔ بے محابا اختلاط یا ہنسی مذاق  کرنے کی تو اجازت ہی نہیں، کبھی سارے گھر والے اکٹھے کھانے پر یا ویسے بھی  بیٹھے ہوں تو خواتین پردہ کے ساتھ  ایک طرف اور مرد ایک طرف رہیں، تاکہ اختلاط نہ ہو۔ گھر کے نامحرم  افراد پر بھی لازم ہے کہ  وہ بھی اس کا اہتمام کریں کہ گھر میں داخل ہوتے وقت بغیر اطلاع کے نہ داخل ہوں، بلکہ بتا کر یا کم ازکم کھنکار کر داخل ہوں، تاکہ کسی قسم کی بے پردگی نادانستگی میں بھی نہ ہو۔

نیز جوائنٹ فیملی میں بھی پردےکے اہتمام کے ساتھ عورتوں  کی تعلیم وتربیت کا خیال  ضروری ہے اور اس کی لیے بہترین کتاب جو  خواتین کے لیے لکھی  ہے وہ حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی صاحب نور اللہ مرقدہ کی کتاب بہشتی زیور ہ ہے جو عورتوں کے لیے ہر اعتبار سے مفید ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ فضائل کی ترغیب کے لیے فضائل اعمال کی تعلیم بھی مفید ثابت ہو گی۔

مولانا ادریس کاندھلوی  رحمۃ اللہ علیہ نے{وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ} کے تحت فرمایا ہے :

"عورت کو اپنی یہ زینتِ ظاہرہ (چہرہ اوردونوں ہاتھ ) صرف محارم کے سامنے کھلا رکھنے کی اجازت ہے، نامحرموں کے سامنے کھولنے کی اجازت نہیں، عورتوں کو اس بات کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں کہ وہ سربازار چہرہ کھول کر اپنا حسن وجمال دکھلاتی پھریں، حسن وجمال کا تمام دارومدار چہرہ پر ہے اور اصل فریفتگی چہرے پر ہی ختم ہے، اس لیے شریعتِ مطہرہ نے زنا کا دروازہ بند کرنے کے لیے نامحرم کے سامنے چہرہ کھولنا حرام قراردیا۔"

(معارف القرآن، کاندھلوی ؒ،ج:۶، صفحہ: ۲۵۷، ط:مکتبۃ المعارف)

باقی رہا خلع یا طلاق تو اس کا فیصلہ فوری طور پر نہ کریں، دونوں خاندان کے بڑوں کو مل بیٹھ کرسمجھانے بجھانے اور معاملات کو حل کرنے کی کوشش کرے، اور اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کریں کہ معاملات حل ہو جائیں اور طلاق یا خلع کی نوبت نہ آئے، اور اگر باوجود سمجھانے کے اگر وہ باز نہیں آتا تو پھر ایسی صورت میں اسے طلاق یا خلع کے لیے راضی کیا جائے، تاہم خلع کے لیے جانبین (میاں، بیوی) کی رضامندی ضروری ہے، شوہر کی رضامندی کے بغیر  یکطرفہ عدالتی خلع شرعاً معتبر نہیں ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ.")التحريم:6)

ترجمہ:"اے ایمان والو ! تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو اس آ گ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔"(بیان القرآن )۔

تفسیر   روح المعانی میں ہے:

"يا أيها الذين آمنوا ‌قوا ‌أنفسكم و أهليكم نارًا أي نوعًا من النار وقودها الناس و الحجارة تتقد بهما اتقاد غيرها بالحطب، و وقاية النفس عن النار بترك المعاصي و فعل الطاعات، و وقاية الأهل بحملهم على ذلك بالنصح والتأديب،و روي أن عمر قال حين نزلت: يا رسول الله نقي أنفسنا فكيف لنا بأهلينا؟ فقال عليه الصلاة والسلام: تنهوهن عما نهاكم الله عنه وتأمروهن بما أمركم الله به فيكون ذلك وقاية بينهن وبين النار...وأخرج ابن المنذر والحاكم وصححه وجماعة عن علي كرم الله تعالى وجهه أنه قال في الآية: علموا أنفسكم وأهليكم الخير وأدبوهم، والمراد بالأهل على ما قيل: ما يشمل الزوجة والولد والعبد والأمة...واستدل بها على أنه يجب على الرجل تعلم ما يجب من الفرائض وتعليمه لهؤلاء، وأدخل بعضهم الأولاد في الأنفس لأن الولد بعض من أبيه،وفي الحديث «رحم الله رجلا قال: يا أهلاه صلاتكم صيامكم زكاتكم مسكنكم يتيمكم جيرانكم لعل الله يجمعكم معه في الجنة»..، وقيل: إن أشد الناس عذابا يوم القيامة من جهل أهله."

(سورة التحريم آية : نمبر۶، ج: نمبر۴، صفحہ: ۳۵۱،  ط:دارالكتب العلمية)

تفسیر مظہری میں ہے:

"يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ‌قُوا ‌أَنْفُسَكُمْ بأداء الواجبات وترك المعاصي وَأَهْلِيكُمْ بالتعليم والتأديب والأمر بالمعروف والنهى عن المنكر."

(سورة التحريم، آية: ۶، ج: ۹، صفحہ: ۳۴۴، ط: رشيدية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144502101133

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں