بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

باطل عقائد رکھنے والے شخص اور اس کی اتباع کا حکم


سوال

میرا ریل اسٹیٹ کا کاروبار ہے ڈیفینس کراچی میں، ایک دن میرے پارٹنر نے اپنے ایک دوست جس کا نام غلام نبی تھا اس سے ملوایا۔غلام نبی سیگریٹ نوشی کررہا تھا اوربغل میں قرآن مجید تھا،انتہائی بےحرمتی سے۔اس نے مجھے بتایاکہ وہ انٹر نیشنل اسلامک پرپیگیشن سینٹر جو کےطارق روڈ پر قبرستان کے ساتھ ہے وہاں تعلیم قرآن کے لیے جاتا ہے،اور وہاں پر محمد شیخ ان کو تعلیم قرآن دیتے ہیں۔پھر اس نے مجھے تبلیغ شروع کی اور کہنے لگا کہ قرآن کی روشنی میں عورت کو پردہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے،یہاں تک کہ نماز کے دوران بھی عورت کو پردہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔پھر اس نے ایک حیرت انگیزبات کہی کہ ختنہ کروانا سنت نہیں ہے اورختنہ کروانا یہودیوں کا رواج ہےاس سے مسلمانوں کا کچھ لینا دینا نہیں ہےاور انتہائی بے حرمتی کے ساتھ مجھے قرآن کی آیات دکھانے لگا۔اس پر میں نے اس کو روک دیا اور میرے آفس سے چلے جانے کا کہا۔ اس کے بعد مجھے محمد شیخ کے عقائد کے بارے میں ایک سی ڈی ملی ، میں اس کو دیکھ کر حیرا ن رہ گیااور میری غیرت طیش میں آگئی کہ کس طرح سے وہ نبی کریم ﷺ کی نعوذ بااللہ توہین کر رہا تھا ،اور کفریہ کلمات بک رہا تھا ۔وہ حدیث کو بھی نہیں مانتا اور کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام واپس نہیں آئیں گے ۔اس سے زیاد ہ مجھ سے دیکھا نہیں گیا مجھے علماء کرام کی ہدایات چاہئیں غلام نبی اور اس کے استاد محمد شیخ کے بارے میں کہ اس طرح کے ایمان رکھنے والوں کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟اور اس طرح کے لوگوں سے تعلق رکھنا کہاں تک صحیح ہے ؟اور کیا یہ ہمارا فرض نہیں بنتا کہ اس طرح کے کفریہ عقید ہ رکھنے والوں کو تبلیغ کے نام پر کفریہ عقائد پھیلانے سے روکیں ؟

جواب

قرآن مجید کی بے حرمتی کرنا کفر ہے ،عورت کے شرعی پردہ کا انکار کرنا ،شرعی نصوص کا انکار ہے۔ ختنہ کے سنت ہونے کا انکار فطرت سلیمہ اور سنت نبویہ سے اعراض کرنا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی توہین کرنا کفر ہے ۔حضرت عیسی ٰ علیہ السلام کی واپسی نزول کا انکار متواتر احادیث اور اجماع کا انکار ہےجوکہ خلاف اسلام ہے ۔ لہٰذا مذکورہ عقائد رکھنے والے لوگوں کا دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ، ایسے لوگوں سے تعلق رکھنا دینی نقصان ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے ، ایسے لوگوں کو ان کے غلط افکار و نظریات کی تبلیغ سے روکنا حکومت وقت کا فرض ہے ۔حکومت پر لازم ہے کہ وہ طاقت کے ذریعہ ایسے لوگوں کو تحریف دین سے روکے،نیز عام رعایا کو بھی چاہئے کہ وہ حکمت ومصلحت کے شرعی تقاضوں اور آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے اخلاص کے ساتھ ایسے لوگوں کی گمراہی سے لوگوں کو آگاہ کرے اور دعوت و تبلیغ کے جذبہ کے تحت ایسے بھٹکے ہوئے لوگوں کی فہمائش کی جائے ۔ پس جن لوگوں کے اندر مذکورہ عقا ئد باطلہ پائے جاتے ہوں اور وہ لوگ اسلام کی طرف نسبت رکھتے ہوں تو ان پر لازم ہے کہ وہ توبہ استغفا ر کریں ، ان باطل عقائد سے برأت و بیزاری کا اعلان کرتے ہوئے تجدید ایمان و تجدید نکاح کرلیں ،اللہ تعالیٰ بخشنے والے مہربان ہیں ۔ واضح رہے کہ فتویٰ اور شرعی حکم افراد کے بجائے افعال و افکار کے عنو ان سے لینا چاہئے تاکہ ذاتیات کی بدگمانی سے بچنا ممکن ہو۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200371

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں