بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

باسط حسین نام کا حکم

سوال

باسط حسین نام رکھنا کیساہے؟

جواب

واضح رہے کہ’’باسط‘‘ کے معنی ہیں : فراخی دینے والا، کھولنے والا،یہ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص نہیں ہے، اس لیے عبد کے بغیر بھی اس کا استعمال جائز ہے،لیکن پسندیدہ نہیں ہے اور اس میں وہ معنی مراد  نہ لیے جائیں جو  اللہ کی شان کے لائق ہیں۔

''حسین''سرکارِ دوعالم ﷺ کے محبوب نواسے کااسم گرامی ہے،صحابہ کرام علیہم الرضوان اور انبیاءِ عظام علیہم الصلوات والتسلیمات کے ناموں میں سے کوئی نام منتخب کرکے رکھنا باعثِ سعادت اور برکت ہے؛اس لیے صرف باسط نام رکھنا یا باسط حسین نام رکھنا شرعا جائز ہے ، بہتر یہ ہے کہ عبد الباسط نام رکھ لیا جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"‌وجاز ‌التسمية بعلي ورشيد من الأسماء المشتركة ويراد في حقنا غير ما يراد في حق الله تعالى لكن التسمية بغير ذلك في زماننا أولى لأن العوام يصغرونها عند النداء كذا في السراجية".

(کتاب الحظر والاباحۃ،ج:۶،ص:۴۱۷،سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401100162
تاریخ31-07-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں