بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1444ھ 07 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بڑے جانور میں عقیقے کے سات حصے رکھنا


سوال

عقیقے کے لیے اگر بیٹا ہو تو دو جانیں قربان کرنے کا حکم ہے ،اگر بیٹی ہوتو ایک جان قربان کرنے کا حکم ہے ۔سوال یہ ہے کہ جیسے بڑے جانور میں سات حصے ہوتے ہیں ،اور  مثال کے طور پر 2 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں ،ان سب کے عقیقے ایک ساتھ کرنے ہیں تو کیا ایک بڑا جانور قربان کر کے سب کے عقیقے ہوسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں بڑے جانور میں عقیقے کی نیت سے سات حصے کرنا درست ہے، لہذا اگر دو بیٹے ہوں تو ان کے عقیقے کی نیت سے چار حصے اور تین بیٹیوں کی جانب سے عقیقے کے تین حصے بنانا اور بڑے جانور کو اس نیت سے قربان کرنا درست ہے، عقیقہ ادا ہوجائے گا۔البتہ سات سے زائد حصے کرنا درست نہیں ہوگا۔

اعلاءالسنن (117/7):

"يصنع بالعقيقة ما يصنع بالأضحى."

الجوہرۃ النیرۃ (282/2):

"و إن كان أحدهم يريد بنصيبه اللحم فإنه لايجزئ عن الكلّ إجماعًا، وكذا إذا  كان نصيب أحدهم أقلّ من السبع فإنه لايجوز عن الكلّ أيضًا."

فتح الباري (9 / 593):

"والجمهور على إجزاء الإبل والبقر أيضاً، وفيه حديث عند الطبراني وأبي الشيخ عن أنس رفعه: يعق عنه من الإبل والبقر والغنم. ونص أحمد على اشتراط كاملة. وذكر الرافعي بحثاً أنها تتأدى بالسبع، كما في الأضحية."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين  (6 / 326):

"[تنبيه] قد علم أن الشرط قصد القربة من الكل، وشمل ما لو كان أحدهم مريدا للأضحية عن عامه وأصحابه عن الماضي تجوز الأضحية عنه ونية أصحابه باطلة وصاروا متطوعين، وعليهم التصدق بلحمها وعلى الواحد أيضاً؛ لأن نصيبه شائع، كما في الخانية، وظاهره عدم جواز الأكل منها، تأمل. وشمل ما لو كانت القربة واجبةً على الكل أو البعض اتفقت جهاتها أو لا، كأضحية وإحصار وجزاء صيد وحلق ومتعة وقران خلافاً لزفر؛ لأن المقصود من الكل القربة، وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل؛ لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد ذكره محمد."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212201111

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں