بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

برسی اور میلاد منانے کا حکم


سوال

 برسی کا کیا حکم ہے اور میلاد منانا اور کھانا پکانا اور لوگوں کو بلانا اور اس میں شرکت کرنے کا کیا حکم ہے؟ اوراگر یہ سب اپنے گھر ہو ں اور باقی سارے گھر والے اس پر متفق ہوں اور صرف میں  ہی منع کرتا ہوں  تو اب کیا شرعی حکم کیا ہے ۔

جواب

برسی  اور میلاد منانا ، اسی طرح برسی اور میلاد پر کھانا پکا کر لوگوں کی دعوت کرنا ، یہ سب بدعت ہیں اور ان  سے اجتناب ضروری ہے۔ سائل کے گھر والے جب سب اس بدعت مبتلاء ہیں اور صرف سائل ہی منع کرتا ہے تو سائل کو چاہیے کہ حکمت سے گھر والوں کو سمجھاتا رہے اور خود ان بدعات کا حصہ نہ بنے۔

الاعتصام للشاطبي  میں ہے:

"والثاني: أن يطلب تركه وينهى عنه لكونه مخالفة لظاهر التشريع; من جهة ضرب الحدود، وتعيين الكيفيات، والتزام الهيئات المعينة، أو الأزمنة المعينة مع الدوام، ونحو ذلك، وهذا هو الابتداع والبدعة، ويسمى فاعله مبتدعا.

فالبدعة إذن عبارة عن: طريقة في الدين مخترعة، تضاهي الشرعية يقصد بالسلوك عليها المبالغة في التعبد لله سبحانه.......وقوله في الحد: " تضاهي الشرعية " ; يعني أنها تشابه الطريقة الشرعية من غير أن تكون في الحقيقة كذلك، بل هي مضادة لها من أوجه متعددة:

منها: وضع الحدود; كالناذر للصيام قائما لا يقعد، ضاحيا لا يستظل، والاختصاص في الانقطاع للعبادة، والاقتصار من المأكل والملبس على صنف دون صنف من غير علة.

ومنها: التزام الكيفيات والهيئات المعينة، كالذكر بهيئة الاجتماع على صوت واحد، واتخاذ يوم ولادة النبي صلى الله عليه وسلم عيدا، وما أشبه ذلك.

ومنها: التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة، كالتزام صيام يوم النصف من شعبان وقيام ليلته."

(الباب الاول ج نمبر ۱ ص نمبر  ۵۳،دار ابن عفان)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411100880

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں