بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1442ھ 21 جون 2021 ء

دارالافتاء

 

’’برصاء‘‘ نام کا مطلب اور رکھنے کا حکم


سوال

میں نے اپنا بیٹی کا نام "برصاء"  رکھا  ہے، کچھ راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

’’برصاء‘‘ اگرچہ ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کا لقب ہے، لیکن چوں کہ ’’برصاء‘‘ اس عورت کو کہتے ہیں جسے ’’برص‘‘ کی بیماری ہو، ایک قول کے مطابق صحابیہ کا لقب بھی اسی بیماری میں مبتلا  ہونے کی وجہ سے ’’برصاء‘‘ پڑگیا تھا، اور یہ ان کا نام نہیں تھا؛  اس  لیے معنیٰ کے اعتبار سے بیٹی کا نام ’’برصاء‘‘ رکھنا درست نہیں ہے، آپ یہ نام تبدیل کرلیں۔

لسان العرب (7/ 5):

’’برص: البرص: داء معروف، نسأل الله العافية منه ومن كل داء، وهو بياض يقع في الجسد، برص برصا، والأنثى برصاء.‘‘

تاج العروس (17/ 486):

’’البرص، محركة: داء معروف، أعاذنا الله منه ومن كل داء، وهو بياض يظهر في ظاهر البدن، ولو قال: يظهر في الجسد لفساد مزاج كان أخصر. وقد برص الرجل كفرح، فهو أبرص وهي برصاء ... والبرصاء: لقب أم شبيب ابن يزيد بن جمرة بن عوف ابن أبي حارثضة. الشاعر، واسمها أمامة بنت قيس، أو قرصافة، عن السكري، والأول قول) ابن الكلبي قال: وهي ابنة الحارث بن عوف، وقال: قال ابن الزبير: إنما سميت البرصاء فيما أخبرني محمد بن الضحاك بن عثمان عن أبيه أن أباها الحارث بن عوف جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فخطب إليه صلى الله عليه وسلم ابنته، فقال: إن بها وضحا، فرجع وقد أصابها، ولم يكن بها وضح، وقال بعض الناس: إنما سميت البرصاء لشدة بياضها، ففي ذلك يقول ابنها شبيب:

(أنا ابن برصاء بها أجيب ... هل في هجان اللون ما تعيب)  قلت: وفيه يقول الشاعر:  (من مبلغ فتيان مرة أنه ... هجانا ابن برصاء العجان شبيب).‘‘

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210201063

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں