بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

بارش اور دھوپ ایک ساتھ ہوں تو دعا رد نہیں ہوتی مذکورہ بات احادیث سے ثابت نہیں ہے


سوال

میں نے سنا ہے کہ جب بارش اور دھوپ ایک ساتھ ہوں یعنی بارش بھی ہو رہی ہو اور دھوپ بھی نکلی ہوئی ہو ، اس وقت جو بھی دعا مانگی جاۓ وہ رد نہیں ہوتی تو کیا یہ بات ثابت ہے ؟

جواب

مذکورہ بات (بارش ہو اور دھوپ ایک ساتھ ہوں تو دعا رد نہیں ہوتی) درست نہیں البتہ احادیث میں مطلق بارش  (یعنی دھوپ ہو یا نہ ہو)کے وقت دعا کی قبولیت اور دعا کے رد نہ ہونے  کا ذکر ہے کیوں کہ وہ رحمت کے نزول کا وقت ہے۔  

سنن ابی داؤد میں ہے:

"عن سهل بن سعد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ثنتان لا تردان، أو قلما تردان الدعاء عند النداء، وعند البأس حين يلحم بعضهم بعضا»، قال موسى، وحدثني رزق بن سعيد بن عبد الرحمن، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ووقت المطر".

(كتاب الجهاد، باب الدعاء عند اللقاء، ج:3، ص:21، ط:المكتبة العصرية)

شرح ابی داؤد لابن رسلان میں ہے:

"(وعن سهل، عن النبي قال: وتحت المطر) أي  : ودعاء من هو تحت المطر لا يرد، أو قل ما يرد، فإنه وقت نزول الرحمة لعباده لاسيما أول مطر السنة؛ لما روى مسلم عن أنس قال: أصابنا  حن مع رسول الله - صلى الله عليه وسلم - مطر فحسر رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ثوبه حتى أصابه المطر، فقلنا: يا رسول الله لم صنعت هذا؟ قال: "لأنه حديث عهد بربه". ومعناه أن المطر رحمة، وهي قريبة العهد بخلق الله تعالى، وروى الشافعي في "الأم" بإسناده حديثًا مرسلًا عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: "اطلبوا الدعاء عند التقاء الجيوش وإقامة الصلاة ونزول الغيث"، قال الشافعي: وقد حفظت عن غير واحد طلب الإجابة عند نزول الغيث، وإقامة الصلاة."

(کتاب الجہاد، باب الدعاء عند اللقاء، ج:11، ص:189، 190، ط:مركز النخب العلمية)

فیض القدیر میں ہے:

"(ثنتان ما) في رواية لا (تردان الدعاء عند النداء) يعني الأذان للصلاة (وتحت المطر) أي دعاء من هو تحت المطر لا يرد أو قلما يرد فإنه وقت نزول الرحمة لا سيما أول قطر السنة والكلام في دعاء متوفر الشروط والأركان والآداب".

(حرف الثاء، ج:3، ص:340، ط:المكتبة التجارية)


فتوی نمبر : 144503102310

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں